خوابوں سے ملاقات…..فریدہ سلطانہ فَری

وہ سب دل میں امید کی کرن لیے، اپنے خوابوں کی تکمیل کی دہلیز پر پہلا قدم رکھ رہے تھے۔ کسی کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا بیگ تھا تو کسی کے ہاتھ میں تعلیمی اسناد۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ان کے ہاتھوں میں صرف بیگ، کاغذات اور اسناد نہیں، بلکہ مستقبل کی ساری امیدیں، خواہشیں اور کامیابی کے خواب سمٹے ہوئے ہوں۔
میں ساتھ بیٹھی ہر ایک کے خواب کو باری باری دیکھ رہی تھی، کیونکہ ہر چہرے پر ایک الگ کہانی لکھی تھی اور ہر آنکھ میں ایک الگ خواب چمک رہا تھا۔ کسی کی آنکھوں میں اپنے خاندان کے حالات بدلنے کی خواہش تھی، کسی کے دل میں اپنے لیے ایک بہتر زندگی بنانے کا عزم، اور کسی کے خواب میں اپنے والدین کے چہروں پر فخر کی مسکراہٹ دیکھنے کی تمنا تھی۔
مگر ان خوابوں کی چمک کے ساتھ ان آنکھوں میں ایک انجانا خوف بھی تھا؛ کہیں غربت ان کے خوابوں کی تکمیل میں رکاوٹ نہ بن جائے، کہیں مالی مشکلات ان کے ارادوں کی راہ میں دیوار نہ بن جائیں۔ مگر ROSE چترال نے بھی یہ ارادہ باندھ لیا تھا کہ ایسا ہرگز ہونے نہیں دیں گے۔
یہ صرف ہمارا ارادہ نہیں تھا، بلکہ ان کی زندگی کے ایک نئے باب کا آغاز تھا۔ کیونکہ آج وہ امید کا دامن تھامے ROSE کے دہلیز پر کھڑے تھے؛ شاید کل یہی امید ان کی کامیابی کی داستان بن جائے۔ ان کے قدموں میں اعتماد تھا اور آنکھوں میں وہ چمک تھی جو صرف بڑے خواب دیکھنے والوں کی آنکھوں میں ہوتی ہے۔
میں انہیں ایک ایک کرکے اندر داخل ہوتے دیکھ رہی تھی اور دل ہی دل میں دعا کر رہی تھی کہ ان کے یہ خواب صرف خواب بن کر نہ رہ جائیں، بلکہ ایک دن حقیقت بن کر ان کی زندگی میں روشنی بکھیر دیں۔
روز وہ ادارہ ہے جو چترال کے نوجوانوں کے خوابوں کی تکمیل کا ایک بہترین وسیلہ بن رہا ہے۔ کل ROSE کے پلیٹ فارم سے ہائر ایجوکیشن اسکالرشپس کے لیے نوجوان بچے بچیوں کے انٹرویوز کرتے ہوئے مجھے ان کے خوابوں سے ملاقات کا شرف حاصل ہو رہا تھا۔ ہر نوجوان کا خواب اپنی ایک الگ دنیا لیے ہوئے تھا۔ یوں محسوس ہورہا تھا جیسے ہر خواب اپنی موجودگی کا ایک خوبصورت احساس دلا کر مجھ سے مل رہا ہو۔ان نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں سے ملتے ہوئے مجھے یقین ہو رہا تھا کہ اگر خوابوں کو صحیح سمت، مناسب مواقع اور تھوڑی سی حوصلہ افزائی مل جائے تو یہ خواب صرف آنکھوں میں چمکنے تک محدود نہیں رہتے، بلکہ حقیقت کا روپ دھار کر پوری زندگی بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔



