چترال میں رکشوں کی بھرمار، شہری ٹریفک مسائل اور حادثات میں اضافے سے پریشان

چترال / چترال شہر اور ملحقہ علاقوں میں رکشوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث شہریوں کو ٹریفک کے مسائل، پیدل آمدورفت میں مشکلات اور حادثات کے خدشات کا سامنا ہے۔ ازار کی سڑکوں پر رکشوں کی غیر منظم آمدورفت کے باعث ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہو رہی ہے۔
عوامی حلقوں کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی جانب سے چترال میں 145 رکشوں کے داخلے کی اجازت کے بعد مزید رکشوں کے داخلے پر دفعہ 144 کے تحت پابندی عائد کی گئی تھی، تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ اس پابندی کے باوجود مزید رکشے چترال پہنچ رہے ہیں، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ رکشوں کے لیے شہر سے باہر یا مناسب مقام پر باقاعدہ اڈہ قائم کیا جائے اور وہاں سے مقررہ تعداد، مثلاً 10 سے 15 رکشوں کو ترتیب وار شہر کی سڑکوں پر چلنے کی اجازت دی جائے تاکہ ٹریفک کا نظام بہتر بنایا جا سکے۔
عوامی حلقوں نے مزید کہا کہ بعض رکشہ ڈرائیوروں کے پاس مبینہ طور پر ڈرائیونگ لائسنس موجود نہیں ہوتا اور بعض کم عمر یا غیر تربیت یافتہ افراد بھی رکشے چلاتے ہیں، جس سے حادثات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ رکشہ ڈرائیوروں کے لائسنس اور دیگر قانونی دستاویزات کی باقاعدگی سے جانچ کی جائے، جبکہ مقررہ رفتار کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔
شہریوں نے ضلعی انتظامیہ، ٹریفک پولیس اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ رکشوں کی تعداد، روٹس اور اڈوں کے حوالے سے واضح ضابطہ وضع کرکے اس پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے تاکہ شہریوں کو درپیش ٹریفک مشکلات کا خاتمہ اور حادثات کے خطرات کو کم کیا جا سکے



