تازہ ترین

اپر چترال: آور ایم فاؤنڈیشن کی کھوتان لشٹ میں تعلیمی، فنی اور سماجی ترقی کے لیے خدمات جاری

چترال (نامہ نگار) آور ایم فاؤنڈیشن (OAF) گزشتہ 13 سال سے اپر چترال کے علاقے کھوتان لشٹ میں واقع تریچ میر اسکول کی معاونت کر رہی ہے، جہاں بچوں کو مفت تعلیم اور کتابوں کی فراہمی کے ذریعے ان کے روشن مستقبل کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔ فاؤنڈیشن نے حال ہی میں صرف پانچ ماہ کے مختصر عرصے میں اسکول کی دوبارہ تعمیر مکمل کرنے کے ساتھ اضافی کلاس رومز بھی تعمیر کیے ہیں، جس سے ادارے کو جدید تعلیمی مرکز کی شکل دینے اور طلبہ کے لیے بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنے میں مدد ملی ہے۔

آور ایم فاؤنڈیشن کی سرگرمیاں صرف تعلیم تک محدود نہیں بلکہ علاقے کی خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ایک الگ ویمن ایمپاورمنٹ سینٹر بھی قائم کیا گیا ہے۔ اس مرکز میں خواتین کو کڑھائی اور دیگر روایتی و فنی ہنر سیکھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے، تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے روزگار حاصل کر سکیں اور اپنے خاندانوں کی معاشی حالت بہتر بنانے میں کردار ادا کریں۔

اسی طرح مقامی نوجوانوں کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اکیسویں صدی کی مہارتوں اور مصنوعی ذہانت (AI) سے متعلق تربیت فراہم کرنے کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے اسکول میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی گئی ہے، جس سے طلبہ اور اساتذہ کو جدید ڈیجیٹل تعلیمی وسائل تک رسائی حاصل ہوگی۔

ان اقدامات کا مقصد علاقے میں معیاری تعلیم کے فروغ، خواتین کی معاشی خودمختاری، نوجوانوں کی فنی صلاحیتوں میں اضافے اور مقامی آبادی کے لیے روزگار کے بہتر مواقع پیدا کرنا ہے۔ آور ایم فاؤنڈیشن کی یہ کاوشیں کھوتان لشٹ میں تعلیمی اور سماجی ترقی کے ساتھ ایک روشن اور خودکفیل مستقبل کی تعمیر کی جانب اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہیں۔

ادارے کے نمائندوں نواز خان، علی العزیز اور دیگر نے کہا کہ آور ایم فاؤنڈیشن کے فلاحی پروگراموں سے اب تک مختلف ممالک میں 67 لاکھ سے زائد افراد کی زندگیوں پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ تنظیم پاکستان سمیت چھ سے زائد ممالک میں معیاری تعلیم کے فروغ، بنیادی صحت کی سہولیات کی فراہمی، غربت میں کمی اور مستحق افراد کی معاونت کے لیے سرگرم عمل ہے۔

علاقے کے مکینوں نے آور ایم فاؤنڈیشن کی خدمات کو کھوتان لشٹ جیسے پسماندہ اور دورافتادہ علاقے کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے ادارے کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ علاقے میں تعلیمی سہولیات کی فراہمی اور غربت میں کمی کے لیے ان کوششوں کو مزید وسعت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے اس دور میں بچوں کو مفت تعلیم، کتابیں، یونیفارم اور دیگر ضروری تعلیمی لوازمات فراہم کرنا قابلِ تحسین اقدام ہے، جس سے مستحق خاندانوں پر مالی بوجھ کم ہونے کے ساتھ بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے بہتر مواقع بھی میسر آ رہے ہیں۔

مقامی لوگوں نے فاؤنڈیشن کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ادارہ مستقبل میں بھی اپنا فلاحی مشن جاری رکھے گا اور علاقے کے بچوں کو معیاری تعلیم، خواتین کو ہنرمند بنانے اور مقامی آبادی کی معاشی حالت بہتر کرنے کے لیے اپنی خدمات کا دائرہ مزید وسیع کرے گا۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button