تازہ ترین
جوڈیشری اور پراسیکیوشن کے درمیان جاری تناؤ دونوں کے درمیاں صلح کے نتیجے میں ختم


اور جو کسی کی غلطی معاف کردے ، اس کا اجر اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ انہو ں نے کہاکہ چترال کے لوگ اعلیٰ روایات کے مالک ہیں اور یہاں تنازعات کی تعداد اور شدت دوسرے علاقوں سے بہت مختلف اور کم ہے۔ اس موقع پر ضلع ناظم مغفرت شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بینچ اور پراسیکیوشن کے درمیان اختلافات کا خاتمہ ایک خو ش آئند بات ہے جس سے چترال کے عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ضلعی حکومت نے شروع کے دن سے ہی دونوں میں اصلاح کی کوششوں میں مصروف تھی۔ انہوں نے ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کی طرف سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر تاج نور خان اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر غلام حضرت انقلابی ایڈوکیٹ نے بھی خطاب کرکے صلح کے عمل پر خوشی کا اظہار کیا۔اس سے قبل چترال کے معروف عالم دین مولانا اسرا ر الدین الہلال نے قرآن وسنت کی روشنی میں صلح کی ضرورت اور اہمیت پر روشنی ڈالی۔ سید فضل ودود جان، سول جج دروش محمد اسماعیل، سول جج بونی شوکت علی اور فیملی جج شاہ سلطا ن درانی اور سینئر وکلاء عبدالولی خان ممبر صوبائی بار کونسل، صاحب نادر خان ، فضل رحیم اور ظفر حیات اس موقع پر موجود تھے۔