تازہ ترین
فوڈ پوائزننگ؛ جنجریت کوہ میں سینکڑوں لوگوں کی حالت غیر/دروش ہسپتال مریضوں سے بھر گیا


میں لایا گیاجبکہ ایچ ایس پی کے چیئر میں حیدر عباس بھی موجود تھے۔ ہسپتال میں مریضوں کو فرش پر لٹاکر انہیں ڈرپ لگائے گئے۔چترال سکاؤٹس کی طرف سے فوری طور ٹینٹ اور چٹائیوں کا بندوبست کرکے ہسپتال کے صحن میں عارضی کیمپ لگایا گیا جہاں پر چترال سکاؤٹس کے میڈیکل آفیسر اور انکا عملہ اور کیپٹن شبیر مریضوں کی خدمت میں موجود رہے جبکہ کسی بھی قسم کے ہنگامی ضرورت کے لئے چترال سکاؤٹس کی ایمبولنس گاڑیاں ہسپتال میں موجود رہیں۔ ایمرجنسی صورتحال کے دوران دروش بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جسکی وجہ سے مقامی لوگوں نے اپنے جنریٹر فراہم کردئیے۔ اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی افراد بڑی تعداد میں ہسپتال میں جمع ہوگئے اور امدادی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ مخیر حضرات نے مریضوں کو لانے کے لئے گاڑیاں بھی فراہم کیں جبکہ ادویات اور دیگر ضروری اشیاء بھی فراہم کئے۔ ڈی ایچ او ڈاکٹر اسرار احمد بھی چترال سے دروش پہنچ گئے ہیں۔ دوسری طرف عوامی حلقوں نے اس ہنگامی موقع پر اسسٹنٹ کمشنر دروش کی بر وقت عدم دستیابی پر نا پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر چترال سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے موقع پر ذمہ دار افسر کا موجود نہ ہونا کئی قسم کے مسائل کو جنم دیتی ہے۔ اس قبل بھی ارسون کے تباہ کن سیلاب کے موقع پر بھی دروش میں اسسٹنٹ کمشنر موجود نہیں تھے ۔