"اقبال،لاہور اور حمیرا جمیل”…….پروفیسر ڈاکٹر منور ہاشمی

یہ شہر لاہور کے لیے بہت بڑی سعادت ہے کہ عالم اسلام کے سب سے بڑے مفکر حضرت علامہ محمد اقبال کی زندگی کا بیشتر حصہ اس شہر میں گزرا. وہ اس شہر میں اقبال سے علامہ اقبال بنے. ان کے افکار کے نور کی کرنیں اس شہر میں پھوٹیں اور دنیا بھر میں پھیل گئیں انہیں اس شہر سے یک گونہ محبت تھی آخری عمر میں تو وہ اس شہر مسعود سے باہر جانا بالکل پسند نہیں کرتے تھے. شاہی مسجد انہیں مسجد قرطبہ کے جلال و جمال کی یاد دلاتی تھی اور اُمت مسلمہ کی عظمت رفتہ کے نقوش میں گم رہتے تھے. شاید یہی وجہ ہے کہ اس مسجد کے صدر دروازے کے ساتھ ہی اس عظیم ہستی کی لحد ہے. جس کے بارے میں خود فرما گئے
زیارت گاہ اہل عزم و ہمت ہے لحد میری
کہ خاک راہ کو اس نے بتایا راز الوندی
لاہور کو اقبال کے ذکر سے الگ نہیں کیا جاسکتا. اس شہر کے مختلف مقامات، شخصیات، عمارات اور دیگر متعلقات کا ذکر اقبال کے حوالے سے مختلف مضامین اور کتب میں ملتا ہے. تاہم ایک مربوط اور جامع انداز میں اس شہر اور اقبال کے حوالے سے ایک باقاعدہ کتاب ترتیب دینا حمیرا جمیل کی قابل قدر کوشش اور سعادت یے. حمیرا جمیل نے اس کتاب کے ذریعے حیات اقبال کے بعض خفیہ گوشوں سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی ہے. بعض ایسی شخصیات منظر عام پر آئی ہیں جنہیں اس سے پہلے اہمیت حاصل نہیں تھی. میں سمجھتا ہوں کہ حمیرا جمیل کی کتاب اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس سے تحقیق کے نئے راستے کھلیں گے اور اقبال شناسی کے نئے باب وا ہوں گے.طلبہ و طالبات اور تحقیق کا ذوق رکھنے والے سکالرز کے لیے یہ کتاب یقیناً بہت مفید ثابت ہوگی. اس کتاب کی وجہ سے میرے ذہن میں یہ خیال پختہ ہوا کہ ان تمام شہروں جن کے ساتھ کسی نہ کسی حوالے سے علامہ اقبال کی یادیں وابستہ ہیں ان کے بارے میں بھی کتب شائع ہونی چاہیں. تحقیق کا سلسلہ ضرور آگے بڑھنا چاہیے. یہ ایک نئے ڈھنگ کی تحقیق ہوگی. جس کے لیے محققین کو حمیرا جمیل کا شکر گزار ہونا ہوگا. میں خود بھی شکر گزار ہوں اور اس کمسن اسکالر کو تحقیق کا ایک نیا باب وا کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں.



