تازہ ترین
اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے ۔ اُن پر کسی نے بھی قبول اسلام کے سلسلے میں دباؤ نہیں ڈالا۔نومسلم لڑکی رینہ کا پریس کانفرنس


نقصان پہنچانے کی بھی بھر پور مذمت کی ۔ اور کہا ، کہ ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ۔ انہوں نے کہا ، کہ وہ نویں جماعت کی سٹوڈنٹ ہے ، اور اسلام سے متاثر ہو کر کلمہ پڑھا ہے ۔ اس موقع کالاش قاضی شیر محمد اور بہرام شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ کہ کالاش اور مسلمان ان وادیوں میں صدیوں سے رہ رہے ہیں ۔ اور اب تک ان کی باہمی اخوت اور بھائی چارہ پوری دنیا کیلئے ایک مثال ہے ۔ اُن کے خاندانوں سے درجنوں مردو خواتین اسلام قبول کر چکے ہیں ۔ اور ہم نے اُن کی رائے اور فیصلے کا احترام کیا ہے ۔ اس لئے رینہ کا قبول اسلام بھی کوئی انو کھا واقعہ نہیں ۔ ہم ایک ہی گھر کے لوگ ہیں ، لیکن بعض خودد غرض یا نا سمجھ لوگ ہماری مثالی امن و محبت کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ تاہم وہ اپنے سازش میں ہر گز کامیاب نہیں ہوں گے ۔ لڑکی کے والد نے اس موقع پر مطالبہ کیا ۔ کہ آیندہ اگر کوئی کالاش مسلمان ہو نا چاہے ۔ تو وہ عدالت کے سامنے مسلمان ہو ۔ تاکہ آیندہ کوئی تنازعہ جنم نہ لے ۔ پریس کانفرنس سے سابق ناظم یوسی بمبوریت عبد المجید قریشی ، کونسلر خلیل الرحمن نے بھی خطاب کیا ۔