60

پشاور پورے صوبے اور فاٹا کے عوام کا مسکن ہے۔اسکی رونقوں اور خوبصورتی میں اضافہ ہم سب کا مشترکہ فرض ہے۔مظفر سید ایڈوکیٹ

پشاور(نمائندہ ڈیلی چترال) خیبر پختونخواکے وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ پشاور کی ہمہ گیر ترقی نئے مالی سال میں بھی ہماری ترجیحات کا محور ہے اور اعتراف کیا ہے کہ پشاور نہ صرف پورے صوبے بلکہ فاٹا کے عوام کا مسکن ہے اور ہزاروں تعلیم و روزگار کیلئے عارضی قیام کے علاوہ لاکھوں مستقل طور پر بھی یہاں آباد ہو چکے ہیں اس لحاظ سے اسکی رونقوں اور خوبصورتی میں اضافہ ہم سب کا مشترکہ فرض ہے رواں سال اسکی ترقی پر 29ارب روپے خرچ کئے گئے جبکہ نئے مالی سال کی ترقیاتی رقم میں 20فیصد زیادہ ہے انہوں نے شہریوں کی فلاح و بہبود کیلئے عملی خدمات پر دیر ویلفئیر آرگنائزیشن جیسی سماجی تنظیموں کے کردار کو سراہا اور اسے ضرورتمند اور دکھی لوگوں کی فلاح و بہبود کیلئے کوششوں میں اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا وہ اپنے دفتر سول سیکرٹریٹ پشاور میں دیر ویلفئیر آرگنائزیشن کے وفد سے باتیں کر رہے تھے جس نے صدر حاجی محمد سید کی زیر قیادت ان سے ملاقات کی اور اُنہیں شہریوں کے بعض مسائل کے علاوہ ترقیاتی عمل تیز کرنے کیلئے بعض تجاویز سے آگاہ کیا وزیر خزانہ نے ان تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے واضح کیا کہ صوبائی حکومت وسطی ایشیاء کے گیٹ وے کی حیثیت سے پشاور کی عظمت رفتہ بحال کرنے اور اسے دوبارہ باغوں اور پھولوں کا شہر بنانے کیلئے پوری تندہی سے کوشاں ہے یہاں رہائشی مسائل کے حل کیلئے نئے مالی سال میں پشاور ماڈل ٹاؤن کے نام سے ایک لاکھ سترہ ہزار ایکڑ پر محیط نیا اور وسیع شہر بسایا جا رہا ہے جو رقبے میں حیات آباد سے پانچ گنا بڑا اور خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہو گا ایکسپریس وے سے جی ٹی روڈ تک اسکی کشادہ سڑکیں 800کنال رقبے پر پھیلی ہونگی یہاں تعلیم و صحت اور سیرو تفریح کے علاوہ روزگار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا کئے جائیں گے اسی طرح ریگی ماڈل ٹاؤن کا فیز تھری اور فور بھی ہنگامی بنیادوں پر تمام بنیادی سہولیات کے ساتھ مکمل کیا جا رہا ہے جو گزشتہ پندرہ بیس سال سے نظرانداز رہا انہوں نے کہا کہ پشاور میں نئے مالی سال کے دوران قائم کیا جانیوالا چڑیا گھر رقبے اور تنوع کے لحاظ سے لاہور کے چڑیاگھر سے بھی بڑا ہو گا اسی طرح پورے پشاور کی سٹریٹ اور روڈ لائٹس کے علاوہ تمام ٹیوب ویلوں کو سولر سسٹم پر لایا جارہا ہے تاکہ شہری لوڈ شیڈنگ کے جھنجھٹ سے آزاد ہوں آبنوشی کی بہتر سہولیات کیلئے ڈبلیو ایس ایس پی کو فعال بنانے اور پانی کی تمام بوسیدہ پائپ لائنیں تبدیل کرنے کے علاوہ جبہ ڈیم کی تعمیر بھی نئے مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے شہر میں روزگار کے مواقع بڑھانے کیلئے یوتھ چیلنج فنڈ قائم کیا جا رہا ہے جس کے تحت تعلیم یافتہ نوجوانوں کو دو تا بیس لاکھ روپے کے قرضے دئیے جائیں گے شہر میں امن و امان کی بہتری کے ساتھ ساتھ ٹریفک وارڈن سسٹم کے ذریعے شہر کا ٹریفک نظام ترقیافتہ ترین ممالک کے برابر لایا جا رہا ہے ایشیائی ترقیاتی بنک کے مالی تعاون سے ایک سال کے اندر 20ارب روپے کی لاگت سے 23کلومیٹر شاہراہ پر ریپڈ بس سروس شروع کی جارہی ہے اسی طرح نجی شعبے کے ذریعے پشاور کے تمام بڑے روٹس پر 100ائیرکنڈیشنڈ بسیں بھی چلائی جا رہی ہیں جنرل بس سٹینڈ کو شہر سے باہر نکالنے کیلئے موٹروے ٹول پلازہ کے قریب 3ارب روپے کی لاگت سے 900کنال اراضی لی گئی ہے اور اگلے سال کے آخر تک اس پر کام بھی مکمل کرنے کی پوری کوشش کی جائے گی پشاور تا اٹک پورے جی ٹی روڈ کو اپ گریڈ کرنے کیلئے پی ایس ڈی پی میں شامل کیا گیا ہے ایک ارب روپے کی لاگت سے یونیورسٹی روڈ، حیات آباد اور ریگی ٹاؤن کی سڑکیں کشادہ کی جائینگی رنگ روڈ کے دونوں اطراف میں سروس روڈ بھی مکمل کئے جائیں گے جبکہ 6ارب روپے کی لاگت سے ناردرن بائی پاس سے وارسک روڈ تک اور 7ارب روپے کے خرچ سے حیات آباد تک رنگ روڈ کے باقی حصے کی تکمیل بھی اہل پشاور کیلئے اگلے سال کا تحفہ ثابت ہوگی اور اندرون شہر ٹریفک رش میں نمایاں کمی آئے گی انہوں نے کہا کہ ہمیں کوہاٹ روڈ پر ٹریفک اژدھام کا بھی بخوبی علم ہے جس کیلئے نئے مالی سال میں50کروڑ روپے کی لاگت سے 15کلومیٹرپشاور کوہاٹ بائی پاس اور راستے میں ایک عظیم الشان فلائی اوور کی تعمیر شامل ہے جبکہ پاک چین راہداری منصوبے کے تحت پشاور تا ڈیرہ اس شاہراہ کو انڈس ہائی وے کی بجائے موٹروے کا درجہ دینے کا فیصلہ بھی ہو چکا ہے جسکی بدولت یہاں سے سفر اسلا�آباد موٹر وے سے زیادہ آرام دہ ثابت ہو گامظفر سید ایڈوکیٹ نے یقین دلایا کہ صوبائی حکومت اپنے حصے کا کردار بطریق احسن ادا کرے گی پشاور کے علاوہ پورے صوبے میں ترقیاتی عمل تیز کیا جارہا ہے اور چھوٹی بڑی سکیموں کے علاوہ میگا منصوبے بھی شروع کئے جارہے ہیں شہر میں صحت و صفائی اور آبنوشی کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن کے بیشتر فرائض ترقیافتہ ممالک کی طرز پر کارپوریٹ کمپنی کے حوالے کئے گئے ہیں جس کی بدولت صورتحال میں سو فیصد بہتری آئی ہے اسی طرح گرین اینڈ کلین پشاور کے منصوبے پر بھی کام جاری رہے گا اور اُمید ہے کہ اگلے موسم بہار میں پشاور کی شاہراہوں اور پارکوں کے اطراف میں سرسبز پودے اور پھول نظر آنے کے علاوہ انکی بھینی خوشبو بھی محسوس ہوگی اور ہم پھولوں اور باغوں کے شہر کے حوالے سے پشاور کی تاریخی عظمت رفتہ بحال کرنے کا خواب ضرور شرمندہ تعبیر بنائیں گے ۔ <><><><><><>

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں