تازہ ترین
صوبائی حکومت کی طرف سے چترال کے ساتھ کئے جانے والے نا انصافیوں کے خلاف سنگین نوعیت کے احتجاج شروع کئے جائیں گے ۔ایم پی اے سلیم خان کاپریس کانفرنس


قابل مذمت بھی ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ بجٹ کیلئے ہمیں ایک سال انتظار کرنا پڑا ۔ لیکن بجٹ جب پیش کیا گیا ۔ تو "کھودا پہاڑ نکلا چوہا "کے مصداق چترال کی تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی اور تعمیر و ترقی کیلئے اُس میں کچھ بھی شامل نہیں تھا ۔ اس لئے انتہائی ما یوسی ہوئی ہے ۔ انہوں جماعت اسلامی کے ا میر سراج الحق پر بھی کڑی تنقید کی ۔ کہ انہوں نے اپنی مخلوط حکومت میں چترال کو مکمل طور پر نظر انداز کیا ۔ حالا نکہ چترال کسی بھی ضلعے کے مقابلے میں فنڈ کا سب سے زیادہ مستحق ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ نوشہرہ میں 50ارب روپے کے منصوبے زیر تعمیر ہیں ، جبکہ چترال کیلئے ایک ارب روپے تک فنڈ کی فراہمی کو اسراف خیال کیا گیا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اگر چترال صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ نہیں ہے ۔ تو انہیں واضح طور پر بتایا جائے ۔ سلیم خان نے کہا ۔ کہ سی اینڈ ڈبلیو کو بحالی کی مد میں ڈیڑھ کروڑ روپے کا فنڈ دینا چترال کے لوگوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش ہے ۔ اپر چترال ریشن ہائیڈل پاور پراجیکٹ کی سیلاب بردگی کے باعث اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے ۔ اور حکومت نے اس کی بحالی کیلئے آٹھ کروڑ روپے فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ لیکن اب کچھ بھی نہیں دیا گیا ۔ انہوں نے چترال میں تحریک انصاف کی طرف سے فُل فلیج یو نیورسٹی کیلئے مختص کردہ فنڈ کو بھی مایوس کُن قرار دیا ۔ اور کہا ۔ کہ صوبائی حکومت کو یونیورسٹی کیلئے کم سے کم پانچ ارب روپے فنڈ مختص کرنے چاہیے تھے ۔ ایم پی اے سلیم خان نے کہا ۔ کہ صوبائی حکومت کی طرف سے چترال کے ساتھ کُھلی زیادتی کے خلاف چترال کے لوگوں کو سڑکوں پر آنا ہو گا ۔ اور چترال کے تمام نمایندگان ، ایم این اے ، ایم پی ایز اور جلع ناظم کو ایک ایک پلیٹ فارم پر آکر چترال کے حقوق کیلئے جدوجُہد کرنی پڑے گی ۔