چترال سے افغان مہاجرین کی واپسی کو تین ماہ کے لئے موخر کیا جائے۔سول سوسائٹی و سیاسی قائدین

چترال (نامہ نگار ) چترال کی سول سوسائٹی اور سیاسی قائدین نے متفقہ طور پر وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ چترال کی مخصوص حالات اور یہاں پائی جانے والی مثالی امن وامان کے پیش نظر چترال سے افغان مہاجرین کی واپسی کو کم از کم تین ماہ کے لئے موخر کیا جائے تاکہ یہاں پر گزشتہ 45سالوں سے رہائش پذیر افغان باشندے اپنے تمام معاملات طے کرسکیں جن میں ان کی تجارتی لین دین بھی شامل ہے۔ چترال کے مقامی ہوٹل میں چترال میں مقیم افغان مہاجرین کی طرف سے مقامی عمائیدین کو دی جانے والی عصرانے سے خطاب کرتے ہوئے صدر محفل وجیہہ الدین، مہمان خصوصی الحاج عیدالحسین اور سیاسی وسماجی قائدین مولانا عبدالشکور، قاری جمال عبدالناصر، مولانا خلیق الزمان،صدر چترال ظہیرالدین، مولانا جمشید احمد، مولانا اسرارالدین الہلال،ساجد اللہ ایڈوکیٹ، بشیر احمد، نوید احمد بیگ، فخر الدین ،صدر تجاریونین نور احمد چارویلو،ایم آئی خان سرحدی ایڈوکیٹ اور فخرو الدین اور دوسروں نے کہاکہ چترال کے عوام نے سوویت یونین کے حملے کے فوری بعد 1979ء میں اپنے افغان بھائیوں کو اسلامی بھائی چارہ اور اخوت کے نیک جذبے کے تحت قبول کیا تھا جس کے بعد 45سالوں پرمحیط اس عرصے میں ایک دوسرے کے ساتھ بہت ہی خوشگوار وقت گزارا اور کبھی بھی شکایت کا موقع پیدا نہیں ہوا۔ انہوں نے کہاکہ دونوں نے ایک دوسرے کے کلچر سے اچھی روایات ایک دوسرے کو منتقل کردئیے جس سے دونوں کلچروں کو فائدہ ہواجبکہ کاروبار کے میدان میں افغان بھائیوں نے انہیں بہت کچھ سیکھادیا جس میں ایمانداری بنیادی عنصر ہے۔ مقررین نے کہاکہ آج چترال کے عوام اپنے افغان بھائیوں کو بھاری دل کے ساتھ رخصت کررہے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ چترال میں مقیم افغان باشندوں کے لئے 30اگست کے شیڈول میں خصوصی طور پر تبدیلی لاتے ہوئے اسے کم ازم کم دو ماہ کیلئے موخر کیا جائے اور ساتھ انہیں اضاخیل میں قائم کیمپ لے جاکر طورخم کے راستے بھیجنے کی بجائے ان کی سہولت کے مطابق ارندو اور گبور کے راستے سے واپس بھیجے جائیں۔ اس سے قبل افغان مہاجرین کی طرف سے قاری عبدالسلام نے کہاکہ ان کے ملک پر روسی جارحیت کے بعد انہیں ہجرت کرکے پاکستان آتے ہوئے وہ یہاں اپنی مستقبل کے حوالے سے بہت ہی فکرمند اور تشویش میں مبتلا تھے لیکن یہاں آنے کے بعد انہیں وہ پذیرائی حاصل ہوئی جس کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت واپس اپنے وطن جانے والوں کی نصف سے ذیادہ کی پیدائش چترال میں ہوئی ہے اور اس وجہ سے وہ اس علاقے کے ساتھ والہانہ محبت رکھتے ہیں اور یہاں کے لوگوں کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں اور جاتے ہوئے وہ رنجیدہ ہیں۔ قاری عبدالسلام نے اہالیان چترال کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ چترال میں بسنے والے افغان مہاجر ان کی محبتوں کامقروض رہیں گے اور انہیں ہمیشہ اپنے دلوں میں بسائے رکھیں گے اور اس دوران کسی بھی قسم کی لغزشوں کے لئے انہوں نے چترالی عوام سے مغذرت کی۔ اس موقع پر ایک متفقہ قرار داد کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کیا گیاکہ چترال میں رہائش پذیر افغان مہاجرین کی قیام میں کم ازکم دو مہینوں کی توسیع دی جائے۔ اس موقع پر چترال میں رہائش پذیر افغان مہاجرین کے عمائیدین بری تعداد میں موجود تھے۔




