تازہ ترین

بنک آف خیبر کے زیر اہتمام اسلامک بنکنگ کے بارے میں آگاہی ورکشاپ مقامی ہوٹل میں منعقد

چترال(ڈیلی چترال نیوز)بنک آف خیبر کے زیر اہتمام اسلامک بنکنگ کے بارے میں آگاہی ورکشاپ مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا جس میں بنک کے سینئر منیجمنٹ نے شرکاء کو بتایاکہ بنک آف خیبر بتدریج تمام شاخوں میں اسلامک بنکنگ کے سسٹم میں لارہی ہے جس کے بعد بنک کے 214کے لگ بھگ تمام شاخوں میں کنونشنل بنکنگ ختم ہوجائے گی۔ا نہوں نے کہاکہ بنک آف خیبر اسلام بکنگ کا آغاز 2002ء میں کرنے کا بیڑا اٹھا یا تھا جوکہ نہایت کامیابی سے جاری ہے اور اس کے لئے شریعہ بورڈ قائم ہے اور ملک کے ممتاز علماء اور اسلامی طرز فکر کے دانشوروں کی مشاورت اور رہنمائی حاصل ہے جن میں مفتی تقی عثمانی اور پروفیسر خورشید احمد نمایان ہیں۔ اس موقع پر بنک کے شریعہ بورڈ کے ایڈوائزر مفتی عبدالحکیم نے اسلامی بنکنگ میں بنک آف خیبر کے اختیار کردہ طریقہ کار پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ اس موقع پر بنک کے سینئر وائس پریذیڈنٹ عبدالعلیم اور دوسروں نے بھی اسلامی بنکاری میں خیبر بنک کے کردار کو اجاگر کیا اور چترال کی کاروباری طبقے پر زور دیاکہ وہ اس بنک کے اسلامی پراڈکٹس سے ذیادہ سے ذیادہ فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے شرکاء کی طرف سے اسلامی بنکنگ کے حوالے سے سوالات کا جواب بھی دے دیا۔ پروگرام میں چترال چیمبر آف کامرس اور کاروباری حلقے سے کثیر تعداد میں شرکت کی جبکہ مقامی علماء اور سول سوسائٹی کے نمائندے بھی موجود تھے۔ تقریب کے مہمان خصوصی اور جے یو آئی کے ضلعی امیر مولانا عبدالشکور نے کہاکہ علماء کے پاس اسلامی اصول وضوابط موجود ہیں جبکہ کاروباری حلقے عملی میدان میں تجربہ رکھتے ہیں جن کے امتزاج سے سود سے پاک بنکاری کی منزل کا حصول ممکن ہے۔ انہوں نے بنک انتظامیہ پر زور دیاکہ وہ شفافیت اور صداقت کو اپنا وطیرہ بنائے رکھیں تاکہ کسٹمرز کا اعتماد ان پر قائم ہو۔ اپنے صدارتی خطاب میں ممتاز کالم نگار ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی نے کہاکہ بنک آف خیبر علمائے کرام کی مشاورت اور رہنمائی میں اسلامی بنکاری کا جو نظام قائم کیا ہے، وہ قابل اعتماد بنیادوں پر استوار ہے۔ اس موقع پر چترال میں بنک کے سینئر افسر شیرزمان بھی موجود تھے۔ اس موقع پرمعروف عالم دین قاری جمال عبدالناصر، مولاناحبیب اللہ،قاری سلامت اللہ،شیخ الحدیث‌مولاناحسین احمد، ساابق تحصیل ناظم سرتاج احمدخان اوردوسروں نے اسلامی بنکاری کے حوالے سے سوالات کئے جنہیں قرآن اورحدیث کے روشنی سے جواب دیاگیا.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button