کالاش ویلیز ڈویلپمنٹ اتھارٹی ( کے وی ڈی اے ) کے زیر انتظام سٹیلائٹ فون، فیکس اور وائی فائی سسٹم متعارف

چترال (نامہ نگار) کالاش ویلی بمبوریت میں سیاحوں اور مقامی کمیونٹی کو تیز ترین رابط کاری اور اطلاعات باہم پہنچانے کیلئے کالاش ویلیز ڈویلپمنٹ اتھارٹی ( کے وی ڈی اے ) کے زیر انتظام سٹیلائٹ فون، فیکس اور وائی فائی سسٹم متعارف کرایا گیا ہے ۔ تاکہ سیاح اور مقامی لوگ خصوصا طلباء و طالبات انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تیز ترین سہولت حاصل کر سکیں ۔ اس سسٹم کا آغاز بمبوریت کے مقام برون میں کے وی ڈی اے کے زیر نگرانی چلنے والے کیمپنگ پاڈز سے کی گئی ہے ، جس کا دائرہ بتدریج مقامی لوگوں ، ہوٹلوں اور اداروں کی ڈیمانڈ پر بڑھایا جائے گا ۔ کمپنی نے سسٹم کی تنصیب کے بعد ایک مہینے کی فری سروس دے دی ہے ۔ جس سے لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔
اس سٹیلائٹ سروس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے ۔ کہ یہ انتہائی تیز ترین سروس ہے ۔ اور اس کا کنکشن براہ راست اسلام آباد سے ہے ۔ ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعے سیاح نہ صرف اپنے فیملیز اور دوستوں سے مستقل طور پر رابطے میں رہ سکتے ہیں ، بلکہ کالاش ویلیز کے قدیم ترین کلچر ، قدرتی نظاروں اور احساسات و تجربات کو مختصر ترین وقت میں اپنوں تک پہنچا سکتے ہیں ۔ اور وادی کے اندر ایک جادوئی رابطہ کاری کے نظام کے طور پر اس سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں ، اس سسٹم کو پوری وادی میں پھیلانے اور اس سہولت سے فائدہ حاصل کرنے کیلئے لوگ جتنی جلد اپنا ڈیٹا کمپنی کو مہیا کریں گے ۔ اسی نسبت سے سسٹم میں توسیع کی جائے گی ۔
گذشتہ روز بمبوریت میں قائم کیمپنگ پاڈ میں اس سسٹم کی تنصیب کے بعد میڈیا کو باقاعدہ طور پر بریفنگ دی گئی ۔ اس موقع پر ڈی جی کے وی ڈی اے منہاس الدین ، بورڈ ممبر سرتاج احمد خان ، سابق ناظم مجیب الرحمن ، ممتاز کاروباری شخصیت عتیق احمد ، اسرار احمد ، مقامی نوجوان ولاگرز ، اور طلبہ موجود تھے ۔ مقامی نوجوانوں اور موقع پر موجود سیاحوں نے اس سہولت کی تعریف کی ۔ اور کہا ۔ کہ موجودہ دور میں سیاحت کی ترقی کا انحصار تیز ترین رابطہ کاری سسٹم پر ہے ۔ تاکہ ایک سیاح اپنی فیملی کے ساتھ رابطے میں رہ کر پر سکون طریقے سے سیاحت کا لطف اٹھائے ۔ اسی طرح طلبہ اور ڈیجیٹل سسٹم سے منسلک تمام طبقہ فکر کے لوگوں کیلئے بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔ عوامی حلقوں نے سسٹم کی تنصیب کیلئے کوشش کرنے پر ڈی جی منہاس الدین خصوصا ممبر کے وی ڈی اے سرتاج احمد کا شکریہ ادا کیا ہے ۔




