تازہ ترین

بیسٹ فارویرپراجیکٹ کی مالی معاونت سے اسپشل ایجوکیشن سنٹرلوئرچترال میں خصوصی افراد کے عالمی دن کی مناسبت سے تقریب کاانعقاد

چترال (ڈیلی چترال نیوز) آغاخان رورل سپورٹ پروگرام چترال کے بیسٹ فارویرپراجیکٹ کی مالی معاونت سے اسپشل ایجوکیشن سنٹرلوئرچترال میں خصوصی افراد کے عالمی دن کی مناسبت سے تقریب کاانعقادکیاگیا۔پروگرام میں خصوصی افراد کے علاوہ مختلف مکتبہ فکرکے خواتین وحضرات نے شرکت نے کی ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ سوشل ویلفیئرافیسرلوئرچترال خضرحیات، جنیڈرافیسر اےکے آرایس پی چترال شازیہ سلطان اوردوسروں نے کہاکہ اس دن کو منانے کا مقصد معاشرے کے تمام شعبوں میں معذور افراد سے اظہار یکجہتی کرنا،خصوصی افراد کے حقوق اور فلاح و بہبود کو فروغ دینااور ان کودرپیش مسائل اجاگر کرنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ خصوصی بچوں کو تعلیم اور صحت کی سہولتیں فراہم کرنے میں ہر مکتبہ وفکر کے لوگوں کو اپنا اپنا کرداراداکرنے کی ضرورت ہے ۔اللہ تعالیٰ نے خصوصی افرادکو بے پناہ خصوصی صلاحیتوں سے نوازا ہے سپیشل بچوں کی خصوصی تربیت کرکے معاشرہ کا فعال شہری بنایاجاسکتاہے۔ خصوصی افراد کو ہمارے معاشرتی رویے معذور کردیتے ہیں۔ معذوری کی حالت میں اگر گھر کا ماحول اچھا مل جائے تو انسان معذوری سے مقابلہ کرلیتا ہے۔ اگر ماحول اس کے برعکس ہو تو پھر نا صرف زندگی گزارنا مشکل ہو جاتاہے بلکہ جسمانی معذوری کے ساتھ ذہن بھی کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں خواتین اور بچیاں اپنی معذوری کی وجہ سے دوہری پسماندگی کا شکار ہیں ،جس کی وجہ سے وہ بنیادی انسانی حقوق یعنی صحت، تعلیم، ہنر اور روزگار وغیرہ جیسی سہولیات سے محروم ہیں۔ معذوری سے جڑی معلومات کی غیر آگاہی کی وجہ سے معذور افراد کو مشکلات کا سامناکرنا پڑتا ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی۔ ان کے ساتھ پیش آنے والی معاشرتی ناانصافیوں کو دور کرتے ہوئے ایسا ماحول دینا ہوگا جس سے وہ احساس کمتری کا شکار نہ ہوں اور معاشرے کے مفید اور کارآمد شہری بن سکیں۔ جنیڈرافیسر اےکے آرایس پی چترال شازیہ سلطان نے کہاکہ اکثرعلاقوں میں خصوصی افراد،خواتین اورلڑکیاں ڈیجیٹل اور ڈومیسٹک وائلنس تشدد کا شکار ہوکر خاموشی سے ظلم برداشت کرتی ہیں کیونکہ ایسے واقعات کی رپورٹ کرنے کی صورت میں انہیں خاندان میں بے عزتی اور کمیونٹی میں تنہائی کا شکار ہونے کا خدشہ ہوتاہے۔تشدد کے خلاف آواز اُٹھانا ایک اجتماعی، سماجی، قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے، کسی بھی نوعیت اور کسی بھی صورت میں تشدد ناقابل برداشت اور قابل مذمت ہے۔خواتین اورخصوصی افرادکو بے شمار چیلنجز درپیش ہیں جن کے حل کیلئے حکومت اورفلاحی ادارے کام کر رہی ہیں مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کی سوچ میں تبدیلی لائی جائے۔ معاشرتی تبدیلی کیلئے ہمیں اپنے رویوں میں تبدیلی لانا ہوگی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button