جامعہ اسلامیہ ریحانکوٹ چترال علم وہدایت کاروشن مینار …….تحریر:…. ابوسلمان

چترال جیسے دور افتادہ، سنگلاخ پہاڑوں میں گھِرے، سخت موسمی حالات اور وسائل کی کمی سے دوچار خطے میں اگر کوئی ادارہ خاموشی، استقامت، صبر اور اخلاص کے ساتھ نسلوں کی فکری، علمی اور روحانی تعمیر میں مصروف ہو، تو وہ محض ایک مدرسہ نہیں رہتا، بلکہ ایک تحریک بن جاتا ہے، ایک مقدس امانت کی صورت اختیار کر لیتا ہے، اور ایک روشن، محفوظ اور باوقار مستقبل کی ضمانت بن جاتا ہے۔
جامعہ اسلامیہ ریحانکوٹ چترال بھی ایسا ہی ایک بابرکت، باوقار اور قابلِ فخر دینی ادارہ ہے، جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے علمِ دین کی شمع فروزاں کیے ہوئے ہے اور قرآن و سنت کی روشنی کو دلوں میں منتقل کرنے کا عظیم فریضہ انجام دے رہا ہے۔
1۔ قیامِ جامعہ: بصیرت، اخلاص اور ضرورت کا حسین امتزاج
سن 2001ء میں اس عظیم دینی درسگاہ کی بنیاد رکھی گئی۔ اس کے بانی، معروف عالمِ دین قاری عبد الرحمٰن قریشی صاحب (فاضل جامعہ اشرافیہ لاہور) نے اُس وقت یہ جرأت مندانہ، دور اندیش اور تاریخی قدم اٹھایا جب پورے ضلع چترال میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے ملحق کوئی بھی دینی ادارہ موجود نہ تھا۔
دشوار گزار راستے، طویل اور صبر آزما سفر، سخت موسمی حالات، وسائل کی شدید قلت اور دیگر ناگزیر مشکلات کے باعث علاقے کے بے شمار بچے علومِ دینیہ سے محروم رہ جاتے تھے۔ ایسے حالات میں جامعہ اسلامیہ ریحانکوٹ کا قیام محض ایک ادارے کا وجود نہیں بلکہ دردِ امت، مستقبل شناس بصیرت اور خلوصِ نیت کا زندہ مظہر ثابت ہوا۔
تعلیمی شعبہ جات: علم و عمل کا متوازن اور مربوط نظام
2۔ شعبۂ تحفیظِ قرآنِ کریم و ناظرہ
یہ جامعہ کا نہایت اہم، بابرکت اور روحِ رواں شعبہ ہے، جہاں قرآنِ مجید کو محض حفظ ہی نہیں کروایا جاتا بلکہ اس کے آداب، تجوید اور روحانی اثرات کو بھی دلوں میں راسخ کیا جاتا ہے۔
ہر سال 15 سے 25 طلبہ قرآنِ مجید حفظ کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ تقریباً 100 طلبہ روزانہ بعد از نمازِ ظہر تا عصر ایک مستقل اور ماہر استاذ کی نگرانی میں تجوید کے ساتھ ناظرہ قرآنِ کریم پڑھتے ہیں۔
شعبۂ تحفیظ کے لیے تین مستند قرّاء کرام مقرر ہیں جو بیک وقت صاحبِ علم اور صاحبِ کردار علماء بھی ہیں اور طلبہ کی اخلاقی، روحانی اور عملی تربیت پر خصوصی توجہ دیتے ہیں۔
3۔ شعبۂ درسِ نظامی
جامعہ میں درجہ اُولیٰ سے لے کر درجہ سابعہ تک مکمل درسِ نظامی کی تعلیم دی جاتی ہے، جو دینی علوم کی اساس اور علمی تربیت کی مضبوط بنیاد ہے۔
اس عظیم ذمہ داری کو نبھانے کے لیے چترال کے تقریباً 20 نامور، باصلاحیت، باعمل اور تجربہ کار علمائے کرام تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ شعبۂ کتب میں داخلہ باقاعدہ جائزہ ٹیسٹ کی بنیاد پر دیا جاتا ہے، جو جامعہ کے اعلیٰ تعلیمی معیار، مضبوط نظم و ضبط اور سنجیدہ طرزِ تعلیم کا واضح ثبوت ہے۔
4۔ شعبۂ مطبخ و مطعم طلبہ کی کفالت*رہائش وخوراک کا مثالی انتظام
جامعہ میں اس وقت تقریباً 200 طلبہ مستقل طور پر رہائش پذیر ہیں جن کے قیام و طعام کی مکمل ذمہ داری جامعہ کے ذمے ہے۔
ظہرانے کے اوقات میں طلبہ کی تعداد مزید بڑھ جاتی ہے، اس کے باوجود جامعہ نہایت حسنِ تدبیر، نظم و ضبط اور اخلاص کے ساتھ یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔
یہ انتظام اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ جامعہ طلبہ کو محض تعلیم ہی نہیں بلکہ گھر جیسا محفوظ اور تربیت یافتہ ماحول فراہم کرتا ہے۔
5۔ شرعی رہنمائی کا مرکز شعبۂ دارالافتاء
امتِ مسلمہ کی شرعی ضروریات کے پیشِ نظر جامعہ میں دارالافتاء قائم کیا گیا ہے، جہاں عوام الناس اپنے روزمرہ اور پیچیدہ شرعی مسائل میں مستند مفتیانِ کرام سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔
یہ جامعہ کے لیے باعثِ اعزاز ہے کہ عالمِ اسلام کی ممتاز علمی و روحانی شخصیت شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے دورۂ چترال کے موقع پر دارالافتاء کے قیام پر خصوصی زور دیا، اور انہی کی رہنمائی میں اس اہم شعبے کا عملی آغاز ہوا۔
6۔ علمی ذوق اور شخصیت سازی*لائبریری اورغیرنصابی سرگرمیاں
جامعہ میں ایک مفید اور منظم لائبریری قائم ہے جہاں دینی، فقہی، تفسیری اور علمی کتب دستیاب ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت، بزمِ ادب، تقریری و تحریری سرگرمیاں طلبہ کی ہمہ جہت اور متوازن شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
7۔ وسعتِ جامعہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت
موجودہ حالات میں جامعہ کو جگہ کی شدید تنگی کا سامنا ہے۔ ایک مکمل، مثالی اور ہمہ جہت جامعہ کی صورت اختیار کرنے کے لیے 1:دورۂ حدیث، 2:تخصص فی الفقہ، 3:دارالاقامہ (ہاسٹل) اور دورِ جدید کے تقاضوں کے مطابق تعلیمی و عملی اسکلز کی تربیت ناگزیر ہو چکی ہے۔
ان مقاصد کے حصول کے لیے جامعہ کے قریب ہی 33 مرلہ پر مشتمل ایک پلاٹ زمین کی خریداری کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس زمین کی قیمت فی مرلہ 16 لاکھ روپے، آدھا مرلہ 8 لاکھ روپے اور فی فٹ 6 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ 33 مرلہ زمین کی مجموعی قیمت 52,800,000 روپے (پانچ کروڑ اٹھائیس لاکھ روپے) بنتی ہے۔
اہلِ ثروت، مخیر حضرات اور صاحبانِ دل سے نہایت پُرخلوص اپیل ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق مرلہ، آدھا مرلہ یا چند فٹ زمین کی صورت میں اس عظیم دینی منصوبے میں حصہ ڈالیں اور اسے اپنے لیے یا اپنے مرحومین کے ایصالِ ثواب کا ذریعہ بنائیں۔
یاد رکھیے! دینی ادارے کے لیے دی جانے والی یہ رقم محض زمین کی خریداری نہیں بلکہ قرآن، حدیث، علم، تربیت اور آنے والی نسلوں کی ایمانی حفاظت میں سرمایہ کاری ہے۔
یہ وہ صدقۂ جاریہ ہے جس کا اجر قبر کی خاموشی میں بھی جاری رہتا ہے اور آخرت میں نجات کا ذریعہ بنتا ہے۔
اللہ رب العزت ہر تعاون کرنے والے کے مال میں برکت، عمر میں خیر اور آخرت میں سرخروئی عطا فرمائے۔ آمین۔


