داد بیداد..مارک ٹیلی کی یادیں..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

حاجی معفرت شاہ خیبر پختونخوا کے بیدار مغز اور فعال سیاستدانوں میں شمار ہوتے ہیں میڈیا پر انکی گہری نظر ہوتی ہے مارک ٹیلی کے مرنے کی خبر آئی تو کسی نے کہا ”مجنون جو مرگیا جنگل اداس ہے“ کسی نے کہا دیوانہ مر گیا آخر کو ویرانے پہ کیا گذری، کسی نے لقمہ دیا ”اک شخص سارے شہر کو سوگوار کر گیا“ میرے لئے ”مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہ“ یہ تاثرات میں نے حاجی صاحب کو سنائے تو وہ بولے اس پر داد بیداد ہونی چاہئیے میں نے اس پر غور کیا تو داد بیداد کا مواد بنتا ہوا محسوس ہوا 1960اور 1980کے عشروں میں پاکستان کے میدانی دیہات اور پہا ڑی وادیوں میں ابلاغ کا واحد ذریعہ ٹرانسسٹر یا ریڈیو تھا خشک بیٹری والا یہ خبر رسان ہر گھر میں ہوتا تھا سیا سی، سما جی، ادبی اور ثقا فتی ذوق یا شعور رکھنے والے لو گ سری لنکا، انڈیا، ایران، ما سکو،بی بی سی اورڈوئچے ویلے جرمنی کی اردو نشریات بڑے شوق سے توا تر کے ساتھ سنتے تھے چاہے بھولے بسرے نغمے ہوں، تعمیل ارشاد ہو، یا سیربین کوئی پروگرام چھوٹتا نہیں تھا، بی بی سی کا سدھو بھائی بچوں میں مقبو ل تھا تو مار ک ٹیلی بڑوں میں مقبو لیت رکھتا تھا خبروں اور تجزیوں یا تبصروں میں حقیقت یا صداقت تلا ش کر نے کے لئے لوگ کسی ایک ذریعے پر انحصار نہیں کرتے تھے انڈیا، ایران زاہدان، ریڈیو ما سکو وائس آف جر منی اور بی بی سی کو بھی سنتے تھے، ان دنوں مار ک ٹیلی نام کا نا مہ نگار جنو بی ایشیاء کی خبریں بھیجتا تھا، ان کی خبریں بھروسہ کرنے کے قابل ہوتی تھیں اس لئے لو گ بی بی سی کا حوالہ دینے کے بجا ئے مار ک ٹیلی کا حوالہ دیا کر تے تھے سیاسی خبروں اور تبصروں کی وجہ سے ناراض ہونے والے سا معین بی بی سی پر غصہ اتار نے کی جگہ مار ک ٹیلی کو برا بھلا کہتے تھے، روز مرہ گفتگو میں ایسا لگتا تھا گویا مارک ٹیلی کوئی جا نا پہچانا شخص یا کوئی شریر پڑوسی ہو جس کا حوالہ ہر حال میں نا گزیر ہو کسی صحافی، نا مہ نگار یا تجزیہ نگار کی پہلی خو بی یہ ہو نی چا ہئے کہ وہ لو گوں کے دلوں میں جگہ بنا ئے اور کسی بھی حوالے سے مجلسوں میں اس کا نا م آئے اس مناسبت سے عالمی نشر یاتی اداروں سے شہرت پا نے والے بڑے بڑے ناموں میں مارک ٹیلی کا نا م آتا تھا خصو صاً پا کستان کے عام انتخابات سے پہلے اور انتخا بات کے بعد پیدا ہونے والی گہما گہمی اور افرا تفری میں مارک ٹیلی محتلف واقعات کو مر چ مصا لحہ لگا کر پیش کر تا تو اس کی رپورٹیں بڑی مقبول ہو تی تھیں وہ خبر کی کھوج میں جا تا تو گھر کے اندر کے خبریں اور ڈرائینگ روم کی چہ میگوئیاں بھی اپنی رپورٹ میں شامل کر تا ان کی رپورٹوں میں آج کی ”ویڈیو لیکس“ سے زیا دہ سنسنی خیز منا ظر ہو تے تھے اس لئے سامعین ان کی رپورٹوں کا انتظار کر تے، گاون کے شریر اور ہو شیار آدمی کو مارک ٹیلی کہتے تھے ان کے مداحوں کی غا لب اکثریت کو ان کے مرنے کی خبر آنے تک پتہ نہیں تھا کہ وہ بھارتی شہری ہے، 1980کے عشرے میں جب افغان خانہ جنگی نے زور پکڑا تو مارک ٹیلی کے ساتھ کا بل سے جون بٹ اور پشاور سے رحیم اللہ یوسف زئی رپورٹیں دینے لگے مگر سکہ مارک ٹیلی کا ہی چلتا تھا بعد میں اگر چہ وسعت اللہ خان نے ان کی جگہ لے لی مگر ”وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی“مارک ٹیلی جیسے کر دار مرنے کے بعد بھی لو گوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں، معا شرے پر ان کے قدموں کے نشان ملتے ہیں اور جس پیشے سے تعلق رکھتے ہوں اُس پیشے پر ان کی چھا پ بہت گہر ی ہو تی ہے


