مضامین

بنگلہ دیش کی سیاست میں جماعت اسلامی کا نیا ابھار ………….تحریر: مبشرالملک

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا حالیہ سیاسی منظرنامے میں دوبارہ ابھرنا محض ایک انتخابی پیش رفت نہیں بلکہ تاریخ کے ایک طویل اور کٹھن باب کے بعد نئی صف بندی کی علامت بھی سمجھا جا رہا ہے۔
سقوطِ ڈھاکہ کے بعد کا دور
1971 میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے وقت بنگلہ دیش کے اندر ایک طبقہ ایسا بھی تھا جو پاکستان کی وحدت برقرار رکھنے کا خواہاں تھا اور اس نے جنگ کے دوران پاک فوج کی حمایت کی۔ تقسیم کے بعد اسی مؤقف کی وجہ سے جماعت اسلامی بنگلہ دیش کو شدید سیاسی اور قانونی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
کئی رہنماؤں پر غداری اور جنگی جرائم کے مقدمات قائم ہوئے اور بعض کو سزائیں بھی سنائی گئیں۔ اس طویل عرصے کو جماعت کے حلقے “آزمائش کا دور” قرار دیتے ہیں۔ ناقدین اس تاریخ کو مختلف زاویے سے دیکھتے ہیں، مگر یہ امر مسلم ہے کہ جماعت نے سخت حالات میں اپنی تنظیمی شناخت برقرار رکھی۔
نئی سیاسی تبدیلیاں اور ابھار
شیخ حسینہ کے دورِ حکومت کے خاتمے اور بدلتے ہوئے سیاسی حالات کے بعد بنگلہ دیش میں طاقت کا توازن ایک مرتبہ پھر تشکیل پا رہا ہے۔ اس نئی صف بندی میں جماعت اسلامی کا منظم ڈھانچہ اور دیرینہ کارکن نیٹ ورک اسے دوبارہ نمایاں کر رہا ہے۔
اسلام سے وابستگی رکھنے والے حلقے اس پیش رفت کو نویدِ مسرت کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جب کہ دیگر سیاسی طبقات اسے محض ایک سیاسی اتار چڑھاؤ قرار دیتے ہیں۔
پاکستانی تناظر میں پیغام
یہ پیش رفت جماعت اسلامی کے لیے بھی ایک پیغام رکھتی ہے کہ کردار سازی، مسلسل عوامی جدوجہد اور غیر جمہوری اثرات سے فاصلے پر رہ کر سیاست کرنا ہی دیرپا کامیابی کا راستہ بنتا ہے۔
اگر پاکستان میں امیر جماعت حافظ نعیم الرحمن کی فعال قیادت میں جماعت اسلامی اس تاثر کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جائے کہ وہ کسی “جرنیلی سائے” کی سیاست کا حصہ ہے، اور عوامی امنگوں کے مطابق بروقت اور جرات مندانہ فیصلے کرے، تو پاکستان میں بھی ایک مضبوط تیسری قوت کے طور پر ابھرنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔
سیاسی جماعتوں کی اصل طاقت وقتی نعروں میں نہیں بلکہ طویل المدت کردار، قربانی اور عوامی اعتماد میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ بنگلہ دیش کا تجربہ اسی حقیقت کی یاد دہانی ہے۔

طالبِ دعا
حقیرو فقیر

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button