تازہ ترین

حکومت کی جانب سے روایتی اسٹمپ پیپر کے نظام کو ختم کرکے نئے ’’ای اسٹمپ‘‘ طریقہ کار کے نفاذ پر شہریوں نے شدید تحفظات کا اظہار

چترال( عبدالغفار سے)حکومت کی جانب سے روایتی اسٹمپ پیپر کے نظام کو ختم کرکے نئے ’’ای اسٹمپ‘‘ طریقہ کار کے نفاذ پر شہریوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق معمولی مالیت کے اسٹمپ پیپر کے حصول کے لیے لوگوں کو غیر ضروری دفتری مراحل، طویل قطاروں اور اضافی اخراجات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ 250 روپے کے اسٹمپ پیپر کے حصول کے لیے پہلے مخصوص اسٹمپ فروش کے پاس جانا پڑتا ہے جہاں کمپیوٹرائزڈ رسید کے نام پر اضافی رقم وصول کی جاتی ہے۔ بعد ازاں شہریوں کو بینک میں لمبی قطار میں کھڑے ہوکر رقم جمع کروانی پڑتی ہے، پھر مختلف کاؤنٹرز سے تصدیق اور مہروں کے مراحل سے گزرنے کے بعد کہیں جا کر اسٹمپ پیپر ملتا ہے۔

متاثرہ افراد کے مطابق ایک عام آدمی کا پورا دن صرف ایک اسٹمپ پیپر لینے میں ضائع ہوجاتا ہے جبکہ 250 روپے کے اسٹمپ کے لیے مجموعی خرچ 600 روپے تک پہنچ جاتا ہے۔ شہریوں نے اس نظام کو غریب عوام پر اضافی بوجھ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جدید سہولت کے نام پر عوام کو مزید مشکلات میں دھکیلا جا رہا ہے۔

عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ای اسٹمپ کے موجودہ طریقہ کار کو آسان بنایا جائے، اضافی فیسوں کا خاتمہ کیا جائے اور اسٹمپ پیپر کے اجرا کے لیے سادہ اور شفاف نظام متعارف کرایا جائے تاکہ شہریوں کا وقت اور پیسہ دونوں محفوظ رہ سکیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button