مضامین

جہانِ خیال…….امیر خان میر صاحب مرحوم — چترال کا روشن علمی و ادبی چہرہ…… تحریر: عتیق الرحمن

چترال کی سرزمین ہمیشہ سے علم، ادب، تہذیب اور باکردار شخصیات کی پہچان رہی ہے۔ انہی درخشاں شخصیات میں امیر خان میر کا نام نہایت احترام سے لیا جاتا ہے۔ وہ ایک بہترین شاعر، ادیب، دانشور، سماجی رہنما اور بااصول سیاسی شخصیت تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی کھوار زبان، چترالی ثقافت اور عوامی خدمت کے لیے وقف کیے رکھی۔
میرے لیے یہ باعثِ اعزاز ہے کہ دادا محترم امیر خان میر صاحب مرحوم کے ساتھ میرا خونی رشتہ ہے، جس کی وجہ سے ان کی شخصیت اور خدمات سے ایک جذباتی وابستگی بھی قائم ہے۔
امیر خان میر صاحب مرحوم 16 دسمبر 1936 کو چمرکن چترال میں سلیمان خان کے گھر پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم سے میٹرک تک اسٹیٹ ہائی سکول چترال سے حاصل کی۔ 1958 میں محکمہ تعلیم میں بطور استاد عملی زندگی کا آغاز کیا، بعد ازاں محکمہ موسمیات میں خدمات انجام دیں اور 2000 میں باعزت طور پر ریٹائر ہوئے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے سماجی و سیاسی میدان میں فعال کردار ادا کیا اور 2001 کے بلدیاتی انتخابات میں تحصیل ناظم منتخب ہوئے۔ وہ آخری عمر تک جماعت اسلامی سے وابستہ رہے اور نظریاتی سیاست کے قائل تھے۔
ان کی علمی، ادبی اور سماجی خدمات کے اعتراف میں استحکام پاکستان کونسل کی جانب سے قائداعظم گولڈ میڈل، انجمنِ ترقیٔ کھوار چترال کی جانب سے کمالِ فن ایوارڈ اور پاکستان ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے شندور ایوارڈ دیا گیا۔
وہ کھوار زبان کے ممتاز شاعر اور ادیب تھے۔ ان کی تصانیف میں ققنوز (دو جلدیں)، فردوسِ فردوسی، آئینۂ چترال اور کھوار ادب شامل ہیں، جبکہ ان کا شعری مجموعہ خیالانِ دنیا وفات کے بعد شائع ہوا۔ ان کی صدارت میں انجمنِ ترقیٔ کھوار چترال کے پلیٹ فارم سے بین الاقوامی سہ روزہ سیمینار منعقد ہوا، جس کے مقالہ جات “چترال اور الحاقِ پاکستان” کے نام سے شائع کیے گئے۔
ان کے حلقۂ احباب میں صوبیدار نصرت الدین مرحوم (مغلاندہ)، مولانا حسین احمد، بابا ایوب مرحوم، عبد اللہ جان مرحوم، محترم خورشید صاحب، محترم آمین الرحمن چغتائی صاحب، ٹھیکیدار ابراہیم شاہ مرحوم، محمد شاہ مرحوم، ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی صاحب، ایڈووکیٹ عبد الولی خان صاحب اور شہزادہ تنویر الملک صاحب سمیت متعدد علمی، ادبی، صحافتی اور سماجی شخصیات شامل تھیں۔
امیر خان میر صاحب مرحوم کے اعلیٰ اخلاق اور بہترین تربیت کا نتیجہ ان کے پانچ صاحبزادے ہیں، جو اعلیٰ تعلیم یافتہ اور باکردار شخصیات ہیں اور اپنے والد کے علمی، ادبی، سماجی اور سیاسی مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ میر صاحب کی یاد میں ان کے بیٹوں نے میر میموریل سکول چمرکن کا قیام بھی عمل میں لایا، جو ان کے علمی مشن کا تسلسل ہے۔
امیر خان میر صاحب مرحوم 24 اکتوبر 2022 کو 86 سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ان کی وفات چترال کے علمی و ادبی حلقوں کے لیے ایک بڑا نقصان تھی۔ اللہ تعالیٰ ان کی کامل مغفرت فرمائے اور درجات بلند فرمائے۔ آمین۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button