چترال :تعلیمی کانفرنس میں اساتذہ کے مسائل پر تفصیلی گفتگو، خیراللہ حواری کی خصوصی شرکت

چترال / تنظیمِ اساتذہ چترال لوئر کے زیرِ اہتمام گورنمنٹ ہائی سکول کاری میں ایک اہم تعلیمی و تربیتی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں اساتذہ کو درپیش مسائل، تعلیمی امور اور آؤٹ سورسنگ سمیت مختلف اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ کانفرنس میں خیراللہ حواری نے خصوصی شرکت کی جبکہ مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے اساتذہ و مہمانانِ گرامی بھی شریک ہوئے۔
پروگرام کا آغاز استادِ ضیاء الدین کے درسِ قرآن سے ہوا جبکہ مولانا شجاع الرحمان نے درسِ حدیث پیش کیا۔ تحصیل صدر تنظیمِ اساتذہ چترال لوئر عبدالحفیظ کاردار نے ابتدائی کلمات پیش کرتے ہوئے شرکاء کو خوش آمدید کہا۔
خیراللہ حواری نے اپنے خطاب میں آؤٹ سورسنگ، اساتذہ کی ڈی پی سی، پروموشن، ماضی کی بوگس پوسٹنگز اور دیگر اہم مسائل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ انہوں نے اساتذہ کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔
سوال و جواب کے سیشن میں ظفر الدین نے کنونس الاؤنس کی ادائیگی کے حوالے سے سوال اٹھایا، جس پر خیراللہ حواری نے بتایا کہ وہ اس ماہ چترال میں موجود ہیں اور اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس جا کر متعلقہ حکام سے بات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سوات سمیت کئی اضلاع میں کنونس الاؤنس کی ادائیگیاں یکمشت کی جا چکی ہیں۔عبدالحفیظ کی جانب سے کیے گئے سوال کے جواب میں خیراللہ حواری نے وضاحت کی کہ پرسنل 17 صرف ایس ایس ٹی کے لیے مخصوص ہے جبکہ دیگر کیڈرز کے لیے ون اسٹیپ پروموشن کی پالیسی موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کے کسی بھی حصے میں اگر کسی استاد کو جائز مسئلہ درپیش ہو تو وہ براہِ راست ان سے رابطہ کر سکتا ہے۔
کانفرنس کے اختتام پر مختلف اساتذہ نے انفرادی ملاقاتوں میں اپنے مسائل خیراللہ حواری کے سامنے پیش کیے۔ پروگرام کا اختتام صدر تنظیمِ اساتذہ چترال لوئر مولانا سفیر اللہ کے اختتامی کلمات اور اجتماعی دعا سے ہوا۔ اس موقع پر تنظیمِ اساتذہ پاکستان ضلع چترال لوئر کی جانب سے شرکاء کے لیے خصوصی ظہرانے کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔
تقریب میں تنظیمِ اساتذہ کرک کے صدر احسان اللہ سمیت دیگر مہمانانِ گرامی نے بھی شرکت کی۔



