مضامین

چترال میں بڑھتی ہوئی شوگر اور غیر صحت بخش خوراک — ایک لمحۂ فکریہ ۔۔تحریر: سید اصف علی شاہ

چترال اپنی قدرتی خوبصورتی، صاف ماحول اور سادہ طرزِ زندگی کی وجہ سے ہمیشہ صحت مند علاقوں میں شمار کیا جاتا تھا، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اب یہاں بھی شوگر (ذیابیطس) تیزی سے پھیلنے والے امراض میں شامل ہو چکی ہے۔ ہر گھر، ہر محلے اور ہر خاندان میں شوگر کے مریضوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ نوجوان، خواتین، بزرگ حتیٰ کہ کم عمر افراد بھی اس مرض کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔
ماہرینِ صحت کے مطابق شوگر بڑھنے کی بڑی وجوہات میں غیر متوازن خوراک، ورزش کی کمی، ذہنی دباؤ اور خاص طور پر بیکری مصنوعات اور کولڈ ڈرنکس کا بے تحاشہ استعمال شامل ہے۔ آج کل چترال کے بازاروں میں بیکری آئٹمز، میٹھی اشیاء، چاکلیٹس، کیک، بسکٹ، ڈونٹس اور مختلف اقسام کے کولڈ ڈرنکس کا استعمال عام ہو چکا ہے۔ نوجوان نسل قدرتی غذاؤں کی بجائے مصنوعی اور میٹھی اشیاء کی طرف زیادہ مائل ہو رہی ہے۔
کولڈ ڈرنکس دراصل چینی کا ایک خطرناک ذریعہ ہیں۔ ایک بوتل یا کین میں کئی چمچ چینی شامل ہوتی ہے جو انسانی جسم میں شوگر لیول کو خطرناک حد تک بڑھا دیتی ہے۔ اسی طرح بیکری مصنوعات میں میدہ، مصنوعی فلیورز اور چکنائی کی زیادہ مقدار موجود ہوتی ہے جو نہ صرف شوگر بلکہ موٹاپا، دل کے امراض اور بلڈ پریشر جیسے مسائل کو بھی جنم دیتی ہے۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ شوگر کو ایک معمولی بیماری سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ ایک خاموش قاتل مرض ہے جو آہستہ آہستہ انسانی جسم کے اہم اعضا کو متاثر کرتا ہے۔ شوگر کی وجہ سے بینائی کمزور ہو سکتی ہے، گردے متاثر ہو سکتے ہیں، دل کی بیماریاں پیدا ہو سکتی ہیں اور بعض اوقات مریض کے ہاتھ یا پاؤں تک متاثر ہو جاتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ چترال میں اس حوالے سے فوری عوامی آگاہی مہم چلائی جائے۔ اسکولوں، کالجوں، مساجد اور میڈیا کے ذریعے لوگوں کو صحت مند خوراک کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے۔ والدین اپنے بچوں کو کولڈ ڈرنکس اور غیر ضروری بیکری اشیاء سے دور رکھیں اور گھر میں قدرتی مشروبات، دودھ، پھل اور مقامی غذاؤں کے استعمال کو فروغ دیں۔
اسی طرح روزانہ واک، ورزش اور جسمانی سرگرمی کو معمول بنایا جائے۔ نوجوان موبائل فون اور سوشل میڈیا پر وقت گزارنے کے بجائے کھیلوں اور صحت مند سرگرمیوں میں حصہ لیں۔ حکومت اور محکمہ صحت کو بھی چاہیے کہ وہ دیہی علاقوں میں شوگر کے مفت ٹیسٹ اور آگاہی پروگرام شروع کریں تاکہ اس بڑھتے ہوئے خطرے پر قابو پایا جا سکے۔
اگر آج ہم نے اپنی خوراک اور طرزِ زندگی نہ بدلا تو آنے والے وقت میں شوگر چترال کے لیے ایک بڑا صحتی بحران بن سکتی ہے۔ صحت مند زندگی ہی خوشحال زندگی ہے، اور اس کے لیے ہمیں ابھی سے سنجیدہ اقدامات اٹھانا ہوں گے۔
"احتیاط علاج سے بہتر ہے
شوگر اور کولڈ ڈرنکس
غیر صحت بخش بیکری مصنوعات
صحت مند طرزِ زندگی اور واک

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button