مضامین

داد بیداد………​​تماشا میرے آگے………. ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

​دو دنوں کے اخبارات کی دو خبروں میں افسوس ناک یکسانیت ہے، ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا کی ساڑھے چار کروڑ آبادی کو علاج معالجے کی سہولت دینے والے بڑے اور چھوٹے ہسپتال بربادی سے دوچار ہو چکے ہیں محکمہ صحت کے 275 ارب روپے سالانہ بجٹ کا صرف 18 فیصد ہسپتالوں کی ترقی اور لازمی سہولیات کی فراہمی پر خرچ ہورہا ہے اس میں سے 50 فیصد کمیشن نکالنے کے بعد صرف 9 فیصد رہ جاتا ہے جس میں نہ عمارتوں کی مرمت ہوسکتی ہے نہ طبی آلات کی فراہمی ممکن ہے چنانچہ غالب کے بقول "کوئی ویرانی ہی ویرانی ہے، دشت کو دیکھ کر گھر یاد آیا” سندھ اور بلوچستان کے بعد یہ تیسرا صوبہ ہے جس میں عوام کو علاج معالجے کی سہولت میسر نہیں جب کسی بیسک ہیلتھ یونٹ (BHU) کو شراکت داری کی بنیاد پر نجی شعبے کے حوالے کیا جاتا ہے اگلے دن وہاں ڈاکٹر بھی آتا ہے۔ لیبارٹری، ایکسریز، الٹرا ساؤنڈ اور ڈینٹل یونٹ کی سہولت بھی مہیا ہوتی ہے حکمرانوں کو شرم نہیں آتی، دوسری خبر اس سے بھی زیادہ شرم ناک ہے خبر کی تفصیل میں بتایا گیا ہے کہ صوبائی حکومت نے 2 ہزار پرائمری سکولوں کو نجی شعبے کے حوالے کر کے 4 ہزار اساتذہ کو سرپلس پول میں ڈال دیا ہے۔ سرپلس پول کا مطلب مفت خوروں کا گروہ ہے اس پول میں جانے والا ٹیچر گھر بیٹھے
اپنی تنخواہ وصول کرے گا، تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ کرے گا اور جلوس بھی نکالے گا یہ سب کچھ حکومت کے احکامات کے تحت جائز ہوگا مزید کھوج لگانے پر معلوم ہوا کہ سر پلس پول سے کسی تربیت یافتہ اور 20 سالہ تجربے کے حامل ٹیچر کو حکومت کسی دوسرے دفتری شعبے میں کلرک یا سٹینو ٹائپسٹ لگانے کی مجاز ہوگی ماشاء اللہ کیا فیاضی اور فراخدلی ہے! خبر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ صوبے میں تعلیم کو پہلی ترجیح قرار دینے کے بعد صوبائی حکومت انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے ہفتے میں 3 دن چھٹیوں کا اعلان کیا ہے، پشاور، مردان، نوشہرہ، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان جیسے گرم موسم والے اضلاع میں موسم گرما کی چھٹیوں کو جزوی طور پر منسوخ کرکے صبح 7 بجے سے 9 بجے تک تمام سکولوں کو کھلا رکھنے کا حکم جاری کیا ہے تاکہ چھوٹے بچے زیادہ سے زیادہ تعلیم حاصل کرسکیں، ہفتے میں 3 دن چھٹی کے بعد گرمی کی چھٹیوں میں روزانہ دو گھنٹے سکول میں حاضری کے انقلابی اقدام کے بعد ہمارے نونہال آسمان کو چھو لیں گے اور تارے توڑ کر لائیں گے مشہور ماہر تعلیم شاہ صاحب نے ان اقدامات کو "تماشا” قرار دیتے ہوئے مرزا غالب کی مقبول غزل کا مطلع دہرایا ہے
بازیچہ اطفال ہے دنیا میرے آگے، ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگے
محکمہ تعلیم پر احمقانہ تجربات 2013 میں شروع ہوئے تھے ان آؤٹ سٹینڈنگ تجربات کا سلسلہ 2026 میں مزید تیز ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ صوبے میں برسراقتدار پارٹی کے اندر اگر سیاسی طاقت اور انتظامی صلاحیت ہوتی تو اس بات کی بے لاگ تحقیقات کرتی کہ محکمہ بلدیات، سی اینڈ ڈبلیو، محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور اریگیشن کو کباڑ خانہ بنانے کے بعد محکمہ صحت اور محکمہ تعلیم کا بیڑا غرق کرنے کا مشورہ دینے والے سیاست دان مخالف پارٹیوں کے ایجنٹ ہیں یا اسٹیبلشمنٹ کے بھیجے ہوئے کارندے ہیں؟ جو برسراقتدار پارٹی کے وزرائے اعلیٰ اور کابینہ کے وزراء کو احمقانہ مشورے دے کر تماشا لگوا رہے ہیں، چونکہ برسراقتدار پارٹی میں طاقت اور صلاحیت نہیں ہے اس لئے صوبے کی عدالت عالیہ سے ازخود نوٹس لے کر معاملات کو سدھارنے کی درخواست کی جا سکتی ہے یا آزاد میڈیا یعنی اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلوں سے توقع کی جا سکتی ہے۔
کہ اس قسم کے مشکوک اور اوٹ پٹانگ اقدامات کے پیچھے کارفرما محرکات کا کھوج لگائیں اور عوام کو آگاہی دیں سوشل میڈیا کے وی لاگر اور یوٹیوبر بھی یہ فریضہ انجام دے سکتے ہیں اور ہمیں بتا سکتے ہیں کہ اکیسویں صدی میں ہمارے صوبے کو پتھر کے زمانے کی طرف پیچھے دھکیلنے کا راز آخر کیا ہے؟ وہ کون کون ہیں جن کو صوبائی حکومت کی ناکامی کا مشن دیکر حکمران پارٹی میں داخل کیا گیا ہے؟ اور ایسے کیا کیا عوامل ہیں جن کی وجہ سے خیبر پختونخوا کو انتظامی ناکامی اور سیاسی دیوالیہ پن کی طرف دھکیلا جا رہا ہے اگر کوئی ناگہانی آفت نہیں آئی تو انتخابات میں ڈھائی سال رہتے ہیں برسر اقتدار پارٹی کی ناکامی کے سفر کو روکنے اور حکومت کو درست سمت کی طرف لے جانے کے لئے اس وقت سب کو مل کر ناکامی کی وجوہات پر غور کرنا ہوگا افتخار عارف کی شہرہ آفاق غزل کا مطلع سب کی زبان پر ہے "مٹ جائیں گے ہم کیا جب تماشا ختم ہوگا،

​ میرے معبود آخر کب تماشا ختم ہوگا

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button