مضامین

​عالمی ماحولیاتی دن اور ہماری بقا کا سوال: کھوکھلے دعوے، سطحی اقدامات اور حقیقتِ حال ​تحریر: بشیر حسین آزاد

​آج دنیا بھر میں "عالمی ماحولیاتی دن” منایا جا رہا ہے۔ اس سال بھی ماحولیاتی تحفظ اور پلاسٹک کی آلودگی کے خاتمے کا عزم دہرایا جا رہا ہے اور یہ پیغام عام کیا جا رہا ہے کہ "یہ زمین ہماری نہیں، بلکہ ہم اس زمین کی امانت ہیں”۔ مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ شعور بیدار کرنے کی یہ سالانہ مہمات صرف بیانات اور سیمینارز تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں، اور عملی طور پر ہماری انتظامیہ اور مقتدر حلقے ماحولیاتی بحران کو روکنے میں بری طرح ناکام نظر آتے ہیں۔
​انتظامیہ کی ناکامی: جڑ کے بجائے پتوں پر وار
​پلاسٹک اور دیگر ماحولیاتی خطرات پر قابو نہ پانے کی سب سے بڑی وجہ انتظامیہ کی ناقص اور سطحی حکمت عملی ہے۔ ہر سال ماحولیاتی دن پر انتظامیہ مارکیٹ کا رخ کرتی ہے اور کسی غریب پرچون فروش، سبزی والے یا نسوار فروش سے چند کلو پلاسٹک کے شاپر ضبط کر کے اسے بھاری جرمانہ کر دیتی ہے۔ انتظامیہ کی یہ کارروائی محض اخبارات کی سرخیاں بننے کے کام آتی ہے۔
​اس وباء کا حقیقی اور واحد توڑ یہ ہے کہ پلاسٹک بنانے والی بڑی فیکٹریوں اور مینوفیکچرنگ یونٹس کو بند کیا جائے یا انہیں متبادل اشیاء تیار کرنے پر مجبور کیا جائے۔ لیکن سرمایہ دارانہ نظام کی مصلحتوں اور کارپوریٹ دباؤ کے باعث حکومتوں کے لیے ان فیکٹریوں پر مکمل پابندی لگانا ناممکن بنا ہوا ہے۔ سپلائی لائن پوری قوت سے جاری ہے، فیکٹریاں اربوں روپے کما رہی ہیں، جبکہ سزا صرف آخری لائن پر کھڑے عام شہری اور چھوٹے دکاندار کو مل رہی ہے۔
​پلاسٹک: ہماری زندگی کا ناگزیر عذاب
​موجودہ دور میں پلاسٹک کا مکمل خاتمہ صرف مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن حد تک پیچیدہ ہو چکا ہے۔ ہماری صبح کے ٹوتھ برش سے لے کر رات کے کھانے کی پیکجنگ تک، ہر ضروریہِ زندگی پلاسٹک کی محتاج ہو چکی ہے۔ مارکیٹ میں دستیاب ہر چھوٹی بڑی چیز، خوراک، کولڈ ڈرنکس اور پانی کی بوتلیں پلاسٹک میں پیک ہو کر آتی ہیں۔ حکومت کی جانب سے سستے اور پائیدار متبادل (جیسے کپڑے یا کاغذ کے تھیلے اور بائیو ڈیگریڈیبل اشیاء) فراہم نہ کیے جانے کی وجہ سے عام آدمی اس زہر کو استعمال کرنے پر مجبور ہے۔
​شاپر کے علاوہ دیگر تباہ کن ماحولیاتی عوامل
​ماحول کو صرف پلاسٹک کے شاپرز سے ہی خطرہ نہیں، بلکہ دیگر کئی ایسے سنگین عوامل ہیں جو ہماری فضا، پانی اور مٹی کو تیزی سے زہر آلود کر رہے ہیں:
​صنعتی فضلہ اور کیمیکل کا اخراج: فیکٹریوں اور کارخانوں سے نکلنے والا زہریلا اور کیمیکل ملا پانی بغیر کسی ٹریٹمنٹ کے دریاؤں، ندی نالوں اور زرعی زمینوں میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ تیزابی پانی جہاں آبی حیات کو ختم کر رہا ہے، وہی زیرِ زمین پانی کو بھی پینے کے قابل نہیں چھوڑ رہا۔
​بے دریغ کٹائی (ٹمبر مافیا کا راج): درخت اور جنگلات زمین کے پھیپھڑے ہیں، لیکن ہمارے پہاڑی اور دیہی علاقوں میں ٹمبر مافیا کی جانب سے درختوں کی بے رحمانہ کٹائی جاری ہے۔ جنگلات کے خاتمے سے زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں اور سیلاب کے خطرات روز بہ روز سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔
​گاڑیوں اور بھٹوں کا دھواں: سڑکوں پر دوڑتی پرانی گاڑیاں، فیکٹریوں کی چمنیاں اور اینٹوں کے بھٹے رات دن فضا میں زہریلی گیسیں اگل رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب سردیوں کے آغاز میں پورا خطہ "اسموگ” (سیاہ دھند) کی لپیٹ میں آ جاتا ہے، جو پھیپھڑوں اور سانس کی بیماریوں کا سبب بن رہا ہے۔
​کولڈ ڈرنکس کی بوتلیں اور ڈسپوزایبل کلچر: شاپرز کے ساتھ ساتھ پولی تھین (PET) سے بنی کولڈ ڈرنکس اور منرل واٹر کی اربوں بوتلیں روزانہ کچرے کی نذر ہوتی ہیں۔ یہ ندی نالوں کو بند کرتی ہیں اور نکاسیِ آب کا پورا نظام مفلوج کر دیتی ہیں، جس سے شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔
​عالمی منظرنامہ: متاثرہ اور محفوظ ممالک
​اگر عالمی سطح پر دیکھا جائے تو ماحولیاتی آلودگی کے اثرات یکساں نہیں ہیں۔ دنیا کے نقشے پر کچھ ممالک اس عذاب کا بدترین شکار ہیں تو کچھ نے بہترین منصوبہ بندی سے خود کو بچا رکھا ہے:
​آلودگی سے بدترین متاثرہ ممالک: جنوبی ایشیا کے ممالک بالخصوص بنگلہ دیش، پاکستان اور بھارت اس وقت ماحولیاتی آلودگی کے عالمی گڑھ بن چکے ہیں۔ یہاں فضائی آلودگی کی شرح خطرناک حد تک زیادہ ہے اور ٹھوس فضلے (Solid Waste) کو ٹھکانے لگانے کا کوئی جدید نظام موجود نہیں ہے۔ اس کے علاوہ افریقی ممالک جیسے چاڈ اور مصر بھی شدید فضائی اور زمینی آلودگی کا سامنا کر رہے ہیں۔
​بہترین اور پاکیزہ فضا والے ممالک: اس کے برعکس، دنیا کے وہ ممالک جنہوں نے ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عمل کیا، ان میں فن لینڈ، آئس لینڈ اور سوئٹزرلینڈ سرِفہرست ہیں۔ ان ممالک میں فیکٹریوں کے دھوئیں پر سخت ٹیکسز ہیں، کچرے کو سو فیصد ری سائیکل کیا جاتا ہے، اور پلاسٹک کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے۔ نیوزی لینڈ اور ڈنمارک نے گرین انرجی (شمسی اور ہوا کی توانائی) اور شجرکاری کو فروغ دے کر اپنی فضا کو دنیا کے لیے ماڈل بنا دیا ہے۔
​حرفِ آخر: اب نہیں تو کب؟
​زمین کو بچانے کے لیے ہمیں چار بنیادی ستونوں پر فوری توجہ دینی ہوگی: کچرے میں کمی (Reduce Waste)، شجرکاری (Plant Trees)، پانی کی بچت (Save Water) اور کرہ ارض کی حفاظت (Protect Our Planet)۔
​اگر ہم واقعی اپنی آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ ماحول دینا چاہتے ہیں، تو انتظامیہ کو نمائشی کارروائیاں بند کرنی ہوں گی۔ جب تک فیکٹریوں کی سطح پر پلاسٹک کی پیداوار پر پابندی نہیں لگتی، جب تک ٹمبر مافیا کے خلاف آہنی ہاتھ استعمال نہیں ہوتے، اور جب تک صنعتی فضلے کو ٹریٹ کرنے کے پلانٹس نہیں لگائے جاتے، تب تک ماحولیاتی دن منانا محض ایک رسمی سالانہ تفریح کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ زمین پکار رہی ہے، اور اب وقت تقریروں کا نہیں، بلکہ سخت اور فوری فیصلوں کا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button