داد بیداد…….بل، بار اور بیئر……ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

کہتے ہیں کہ ایک شخص نے فرینکفرٹ کے مشہور بار میں داخل ہوکر بیئر (bear) کا آرڈر دیا، بار کے منشی نے کہا 20 یورو لگینگے، گاہک نے کہا کل تک 3 یورو میں آتا تھا، منشی بولا آج 20 یورو میں بکتا ہے۔ گاہک نےمنشی کو کریڈٹ کارڈ پیش کیا، منشی نے صرف 17 یورو وصول کرکے کارڈ واپس کی، اور رسید بھی تمھادی رسید میں لکھا تھا بیئر کی قیمت 3 یورو، یوکرین جنگ کے لئے خصوصی لیوی 3 یورو، برطانیہ کی امداد کے لئے لیوی 4 یورو، یورپی یونین کی امداد کے لئے لیوی 4 یورو، بلقان کے لیے امدادی لیوی 3 یورو، اور یورپ میں گیس کی سبسڈی کے لیے خصوصی فنڈ 3 یورو رسید دیکھ کر گاہک بولا مگر آپ نے 3 یورو کم لئے، منشی بولا آج ہمارے پاس بیئر نہیں ہے۔ وطن عزیز میں بجلی اور گیس کی صورت حال بھی فرینکفرٹ کے بار میں بیئر کی طرح ہے کمپنی کے پاس بجلی اور گیس دستیاب نہیں بل میں اس کی قیمت سے کئی گنا زیادہ ٹیکس وصول کئے جاتے ہیں، اور نہایت بے شرمی یا ڈھٹائی کے ساتھ قیمت بھی وصول کی جاتی ہے حالانکہ سہولت نہیں دی گئی ۔ اس لحاظ سے جرمن بار کا منشی نسبتاً زیادہ انصاف پسند معلوم ہوتا ہے اس نے بیئر کی قیمت واپس کرکے صرف ٹیکس وصول کی اور گاہک سے معذرت کی کہ بیئر دستیاب نہیں، مجھے اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ گیس اور بجلی کی کمپنیوں کو اکیسویں صدی کی ایجادات کا علم کیوں نہیں، گلگت بلستان اور چترال میں مقامی تنظیموں نے 500 کے وی اور 700 کے وی کے بے شمار پن بجلی گھر قائم کئے ہیں ان بجلی گھروں سےصارفین کو 3 روپے یونٹ کے حساب سے بجلی دی جاتی ہے اور بل پیشگی وصول کی جاتی ہے دیہی تنظیموں نے بجلی کی قیمت کو موبائل فون کمپنی کی طرح ایزی لوڈ سے منسلک کیا ہے صارف اپنے اکاونٹ میں بیلنس ڈالتا ہے بیلنس ختم ہونے پر بجلی بجھ جاتی ہے دوبارہ بیلنس ڈال کر اپنی بجلی بحال کرتا ہے، بغیر لوڈشیڈنگ کے اچھی معیاری بجلی تمام گھریلو مقاصد کے لئے استعمال کرے تو صارف کا مہینہ بھر کا خرچہ تین ہزار روپے سے زیادہ نہیں آتا، بل، بار اور بیئر والے ٹیکسوں کا کوئی چکر نہیں


