مضامین

کربلا آج بھی زندہ ہے – کاوشات اقبال سے ایک ورق ۔ تحریر: محمد اقبال شاکر

واقعہ کربلا تاریخ اسلام کا وہ ناقابل فراموش واقعہ ہے جو کٸی صدی بیت جانے کے بعد بھی زندہ ہے اور نواسہ رسول حضرت محمد صلى الله عليه واله وسلم کی یزید کی ظلم بربریت کے خلاف نہ مٹنے والی داستان ہے یہ وہ داستان جس کو قیامت تک کوٸی فراموش نہیں کر سکتا۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم شھادت امام حسین رضی اللہ عنہ کے فلسفے کو سمجھنے والا بنیں ہم غور و فکر کرہں کہ آپ نے جو عظیم قربانی دی تھی اس کی اصل روح ہمارے اندر کی حد تک پیدا اور بیدار ہوٸی ہے اور ہم قربانی کے حقیقی مفہوم سے کس حد تک آشنا ہوۓ ہیں ہم موجودہ وقت کے یزیدوں کے مقابلے میں قربانی کیلے تیار ہیں اگر تیار نہیں تو سمجھیں کہ آپ رضی اللہ عنہ کی شھادت سے کچھ نہیں سیکھ سکے آپ رضی اللہ عنہ کس مقصد کو حاصل کرنے کیلے اپنے جان عزیز قربان کی بلکہ اپنی خاندان سمیت شھادت کی اعلی مثال پیش کی اتنی بڑی عظیم قربانی دینی کی وجہ وہ تغیرات تھے جو آپ رضی اللہ عنہ کی دورس دوربین نگاہیں اس وقت مسلمان معاشریاور اسلامی ریاست کی روح اس کی مزاج اور اس کے نظام میں

بڑے تغیر کے آثرات دیکھ رہی تھی جس کی روکنے کی جوجہد کرنا آپ رضی اللہ عنہ ضروری سمجھتے تھے وہ تغیر کسی دین کی تبدیلی نہیں تھی کسی عدالتوں میں فیصلوں کی تبدیلی نہیں تھی ایسا بلکل بھی نہیں تھا بلکہ یزید کی ولی عہدی و تخت نشینی سے دراصل جس خرابی کی ابتدا ہو رہی تھی وہ اسلامی ریاست کے دستور اس کے مزاج اور اس کے مقصد کی تبدیلی تھی کہ ایک صاحب نظر آدمی گاڑی کا رخ تبدیل ہوتے ہی جان سکتا تھا کہ اس کا راستہ ہی بدل رہا ہے اور جس راہ پہ یہ مُڑ رہی ہے وہ آخر کار اس سے کہاں لے جاۓ گا یہی رُخ اس کی تبدیلی تھی جس سے علی مقام رضی اللہ عنہ نے دیکھا اس گاڑی کو پھر سے صحیح پٹڑی پر ڈالنے کیلے اپنی جان تک لڑا دینے کا فیصلہ کیا اس لٸے محمد علی جوہر نے کہا تھا

قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے۔۔
اسلام زندہ ہوتاہے ہر کربلا
کے بعد۔۔
آج بھی ارض فلسطین کی دھرتی خون کی وادی ہے یہاں ہر روز وقت کی یزید اہل عزا پر ظلم وبربریت کا پہاڑ توڑ رہا ہے اس کی ہاتھوں سے لاکھوں مسلمان شھیدوں کا خوں دریا کی طرح بہ رہا ہے نیتن یاہو نام خونی دہشت گرد مسلمانوں کو مٹا کر یہودی آبادی بسانے پہ تلا ہے دوسری طرف بھارت میں نیرندر مودی ہندو پرچا دہشت گرد مسلمانوں کا جینا حرام کردیا ہے ان دونوں کے کندھوں پر لاکھوں مسلمانوں کا خون ہے یہ دو نوں وقت کے یزید اور دہشت گرد ہیں جس کو اقوام عالم میں مسلمانوں سے شدید قسم کی نفرت موجود ہے

جس طرح حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے دین کی بقا اور نظام و نظریے کے تحفظ کیلے تمام مصلحتوں کو بالاۓ طاق رکھ کر وقت کے جابر کے سامنے کلمہ حق کی بقا و سر بلندی کیلے صبرو استقلال کے عظیم حوصلے کے ساتھ دشمن کے مقابلے میں سیسہ پلاٸی دیوار بنے۔اج بھی ان کی چالوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے۔ظلم، جبر اور استحصال کے نظام کے خلاف کھڑے ہوکر وقت کے یزیدوں کا انکار کرنا ہی دراصل تقلید امام حسین رضی اللہ عنہ کا تقاضا ہے اور موجودہ حالات ہمیں اس پہ چلنے کا تقاضا کرتے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button