مضامین

جنگ سے مذاکرات تک: مشرق وسطیٰ میں ابھرتے معاشی روابط اور پاکستان کے لیے نئے مواقع ۔۔۔۔۔۔۔ ظفر احمد

کچھ ہی عرصے قبل مشرق وسطی ایک بڑی جنگ کے دہانے پر کھڑا دکھائی دے رہا تھا۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، امریکی مداخلت اور خطے میں پھیلتی بے یقینی نے عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا کر دیا تھا۔ ماہرین خدشہ ظاہر کر رہے تھے کہ اگر صورتحال قابو سے باہر ہوئی تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت کو بھی شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تاہم خوش آئند طور پر حالات نے ایک غیر متوقع رخ اختیار کیا اور جنگ کے بادلوں کے درمیان سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی رابطوں کی نئی راہین کھلنا شروع ہو گئیں۔

آج خطے میں ایک نئی حقیقت جنم لے رہی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے بعض اقتصادی پابندیوں میں نرمی کی خبریں سامنے آ رہی ہیں اور علاقائی ممالک تصادم کے بجائے اقتصادی تعاون اور استحکام کے امکانات پر غور و کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے وقت میں پاکستان کے لیے یہ صورتحال غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ پاکستان نہ صرف مشرق وسطی کے قریب واقع ہے بلکہ اس کے ایران، خلیجی ممالک، چین اور افغانستان کے ساتھ گہرے اقتصادی اور سفارتی روابط بھی موجود ہیں۔

گزشتہ چند مہینوں کے دوران پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی رابطوں کو برقرار رکھنے کی حمایت کی۔ پاکستان کا مستقل مؤقف رہا کہ خطے کے مسائل کا حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات اور سیاسی مفاہمت میں پوشیدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب دنیا ایران اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ تصادم کے نتائج پر غور کر رہی تھی تو پاکستان مسلسل امن، تحمل اور سفارتی حل کی ضرورت پر زور دیتا رہا۔ اگرچہ کسی بھی بین الاقوامی مذاکراتی عمل کا سہرا کسی ایک ملک کے سر نہیں باندھا جا سکتا، تاہم پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی اور مختلف علاقائی قوتوں کے ساتھ تعلقات نے اسے ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر نمایاں کیا ہے۔

اس تمام صورتحال کا سب سے بڑا معاشی پہلو توانائی سے متعلق ہے۔ ایران دنیا کے بڑے تیل اور قدرتی گیس کے ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔ کئی برسوں سے عائد اقتصادی پابندیوں نے ایران کی برآمدی صلاحیت کو محدود رکھا لیکن اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں اور پابندیوں میں مزید نرمی آتی ہے تو ایران دوبارہ عالمی توانائی منڈی میں زیادہ فعال کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس سے تیل اور گیس کی رسد میں اضافہ اور قیمتوں میں استحکام کا امکان پیدا ہوگا جوکہ پاکستان جیسے توانائی درآمد کرنے والے ممالک کے لیے خوش آئند خبر ہوگی۔

پاکستان کی معیشت طویل عرصے سے توانائی کے مہنگے درآمدی بل کا بوجھ اٹھا رہی ہے۔ ہر سال اربوں ڈالر کی تیل درآمدات ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ ڈالتی ہیں۔ اگر توانائی کی عالمی قیمتوں میں استحکام آتا ہے تو اس کا براہِ راست فائدہ پاکستان کی معیشت، صنعت اور عام صارفین کو پہنچ سکتا ہے۔
ایران کے ساتھ پاکستان کے اقتصادی تعلقات صرف توانائی تک محدود نہیں ہیں۔ دونوں ممالک تقریباً نو سو کلومیٹر طویل سرحد رکھتے ہیں، لیکن ان کے درمیان دوطرفہ تجارت اپنی حقیقی صلاحیت سے کہیں کم ہے۔ موجودہ حالات سرحدی تجارت، مشترکہ اقتصادی منصوبوں، صنعتی تعاون اور ٹرانسپورٹ روابط کے فروغ کے لیے نئے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔

اسی تناظر میں ایران۔پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔ اگر علاقائی حالات اور بین الاقوامی سفارت کاری سازگار رہتی ہے تو یہ منصوبہ پاکستان کے توانائی بحران میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ سستی گیس کی دستیابی صنعتوں کی پیداواری لاگت کم کرے گی، برآمدات کو مسابقتی بنائے گی اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کرے گی۔
دوسری جانب چین اور مشرقِ وسطی کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارت پاکستان کے لیے مزید امکانات پیدا کر رہی ہے۔ چین دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہے جبکہ مشرق وسطی توانائی کا اہم مرکز ہے۔ ان دونوں کے درمیان اقتصادی روابط میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان اپنی جغرافیائی حیثیت کی بدولت اس اقتصادی رابطے کا قدرتی پل بن سکتا ہے۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اور گوادر بندرگاہ اسی تناظر میں غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر خطے میں امن اور استحکام کا ماحول برقرار رہتا ہے تو گوادر مستقبل میں خلیجی ممالک، چین اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک اہم تجارتی اور لاجسٹک مرکز بن سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار اور صنعتی ترقی کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

تاہم ایک اہم حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر پاکستان واقعی علاقائی تجارت اور رابطوں کا مرکز بننا چاہتا ہے تو افغانستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری ناگزیر ہے۔ افغانستان پاکستان کے لیے وسطی ایشیا تک زمینی رسائی کا اہم راستہ ہے جبکہ پاکستان افغانستان کے لیے سمندری تجارت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ سرحدی کشیدگی اور تجارتی رکاوٹیں دونوں ممالک کے مفاد میں نہیں۔ علاقائی خوشحالی کا خواب اسلام آباد، کابل، تہران، بیجنگ اور خلیجی دارالحکومتوں کے درمیان مضبوط اقتصادی روابط کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔

پاکستان کے لیے اس نئی صورتحال کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ محص سفارتی کامیابی کی خوشی منانے کی بجائے ایک فعال شراکت دار کے طور پر ابھرے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ اپنی اقتصادی اصلاحات کو تیز کرے، سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنائے، علاقائی تجارت کو فروغ دے اور اپنی متوازن خارجہ پالیسی کو برقرار رکھے۔

آج مشرق وسطی ایک نئے دوراہے پر کھڑا ہے۔ اگر جنگ کی جگہ مذاکرات اور تصادم کی جگہ اقتصادی تعاون نے لے لی تو اس کے ثمرات پورے خطے تک پہنچ سکتے ہیں۔ پاکستان کے پاس ایک نادر موقع موجود ہے کہ وہ اپنی جغرافیائی اہمیت، سفارتی توازن اور اقتصادی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے خطے کی نئی اقتصادی اور سیاسی ترتیب میں ایک مؤثر کردار ادا کرے۔ آنے والے مہینے صرف مشرق وسطی ہی نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کے لیے بھی فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button