چترال میں تجاوزات، سیلابی خطرات اور انتظامی خاموشی۔۔تحریر۔۔عبدالغفار

چترال لوئر میں دریائے چترال کے کنارے تجاوزات کا مسئلہ ایک بار پھر سنگین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال نشاندہی کے باوجود تاحال کوئی مؤثر کارروائی سامنے نہ آنا نہ صرف ایک بڑا سوالیہ نشان ہے بلکہ مستقبل میں ممکنہ سیلابی تباہی کا پیش خیمہ بھی بن سکتا ہے۔
گزشتہ برس انتظامیہ نے دریا کے کنارے واقع متعدد عمارتوں کے سامنے واضح نشانات لگائے تھے تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ ان حدود سے آگے کا علاقہ دریا کے قدرتی بہاؤ کا حصہ ہے اور اسے خالی کروانا ناگزیر ہے۔ اس اقدام کو ممکنہ سیلابی خطرات کے تناظر میں ایک احتیاطی قدم قرار دیا گیا تھا۔ مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ ایک سال گزرنے کے باوجود نہ تجاوزات کا خاتمہ ممکن ہو سکا اور نہ ہی دریا کے راستے کو اصل حالت میں بحال کیا جا سکا۔ حالیہ بارشوں نے ان نشانات کو بھی مٹا دیا ہے، جس سے صورتحال مزید مبہم اور تشویشناک بن گئی ہے۔
اس تمام صورتحال میں ایک تلخ حقیقت یہ بھی سامنے آتی ہے کہ بعض بااثر افراد کی وجہ سے قانون کی عملداری کمزور پڑ جاتی ہے۔ ایک متاثرہ عمارت کے مالک کا یہ کہنا کہ “ایسے نشانات پہلے بھی لگتے رہے ہیں اور بعد میں معاملات کسی نہ کسی طرح حل ہو جاتے ہیں” ہمارے انتظامی نظام کی کمزوری کو بے نقاب کرتا ہے۔ یہ وہ طرزِ فکر ہے جس نے قدرتی راستوں، ندی نالوں اور دریا کے کناروں کو آہستہ آہستہ انسانی تجاوزات کی نذر کر دیا ہے۔
چترال کی تاریخ گواہ ہے کہ قدرتی آفات کو نظرانداز کرنے کے نتائج ہمیشہ تباہ کن نکلے ہیں۔ 1985 میں آنے والا مورین گول کا ہولناک سیلاب آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہے۔ اس سیلاب نے نہ صرف متعدد مکانات بلکہ سرکاری املاک اور چترال سکاؤٹس کی چھاؤنی کو بھی شدید نقصان پہنچایا تھا۔ اس سانحے کے بعد جب اس وقت کے گورنر جنرل فضل حق چترال آئے تو عوام نے ان کے سامنے واحد مطالبہ مورین گول میں حفاظتی بند کی تعمیر کا رکھا۔
بعد ازاں حفاظتی بند تعمیر کیا گیا اور سیلابی گزرگاہ کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب جگہ بھی چھوڑی گئی تاکہ مستقبل میں پانی کا بہاؤ متاثر نہ ہو۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس منصوبے کے آخری حصے، جو تقریباً نصف کلومیٹر پر مشتمل تھا، پر آہستہ آہستہ تجاوزات قائم ہوتی گئیں۔ آج صورتحال یہ ہے کہ وہاں کبھی موجود سیلابی نالے کا وجود تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ یہ خاموش تبدیلی دراصل ایک آنے والے خطرے کی علامت ہے۔
گزشتہ پانچ چھ سالوں کے دوران دریائے چترال مزید بے لگام ہوتا جا رہا ہے۔ ہر سال دریا کی بے رحم موجیں قیمتی زرعی زمینوں کو اپنے ساتھ بہا لے جاتی ہیں۔ چترال میں ویسے ہی قابلِ کاشت زمین نہ ہونے کے برابر ہے، کیونکہ یہ ایک پہاڑی اور دشوار گزار خطہ ہے جہاں زراعت کے لیے موزوں زمین انتہائی محدود ہے۔ اس کے باوجود سالانہ سینکڑوں ایکڑ زرعی اراضی دریا برد ہو جانا نہ صرف مقامی معیشت بلکہ لوگوں کے مستقبل کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ چترال میں خصوصی فنڈز کا سب سے بڑا حصہ حفاظتی بندوں اور سیلابی تحفظ کے منصوبوں کے لیے مختص کرے۔ دریائے چترال اور مختلف ندی نالوں کے کنارے مضبوط حفاظتی دیواریں تعمیر کی جائیں، پرانے بندوں کی مرمت کی جائے اور ان علاقوں کی فوری نشاندہی کی جائے جہاں زمین تیزی سے کٹاؤ کا شکار ہے۔ اگر آج ان قیمتی زمینوں کو نہ بچایا گیا تو آنے والے برسوں میں چترال مزید زرعی بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔
قدرتی راستوں پر تعمیرات وقتی طور پر فائدہ مند ضرور محسوس ہوتی ہیں، مگر قدرت کبھی اپنی حدود فراموش نہیں کرتی۔ جب دریا، نالے یا سیلابی ریلے اپنے راستے مانگتے ہیں تو پھر دیواریں، بازار، مکانات اور اثر و رسوخ سب بے معنی ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بزرگوں کی کہاوت “جتنی چادر ہو اتنے ہی پاؤں پھیلاؤ” آج پہلے سے کہیں زیادہ اہم محسوس ہوتی ہے۔ قدرتی حدود سے تجاوز دراصل اپنے ہاتھوں خطرے کو دعوت دینا ہے۔
چترال جیسے حساس جغرافیائی علاقے میں احتیاط، منصوبہ بندی اور قانون کی یکساں عملداری ناگزیر ہے۔ انتظامیہ کو صرف نشانات لگانے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ عملی اقدامات کرتے ہوئے تجاوزات کا خاتمہ، سیلابی راستوں کی بحالی اور بااثر افراد کے خلاف بھی یکساں کارروائی یقینی بنانی چاہیے۔ اگر آج غفلت برتی گئی تو کل کوئی بڑا سانحہ جنم لے سکتا ہے، اور پھر شاید پچھتاوے کے سوا کچھ باقی نہ رہے۔
اب چترال میں سیلابوں کا موسم شروع ہو چکا ہے۔ دعا ہے کہ یہ دن خیرو عافیت سے گزر جائیں، مگر دعا کے ساتھ تدبیر بھی ضروری ہے، کیونکہ تاریخ خود کو دہرانے میں زیادہ دیر نہیں لگاتی



