مضامین

"شندور پولو فیسٹیول: کھیل کی رونق یا کھلاڑیوں کی زندگی کا جوا؟”….. تحریر بشیرحسین آزاد۔۔

​شندور پولو فیسٹیول دنیا کے بلند ترین مقام پر کھیلا جانے والا منفرد اور تاریخی کھیل ہے، جسے دیکھنے کے لیے ملک بھر اور بیرونِ ملک سے ہزاروں سیاح آتے ہیں۔ اس عظیم تہوار کی کامیابی میں جہاں کھلاڑیوں کی مہارت اور جرات بنیادی کردار ادا کرتی ہے، وہیں ان کی جان و مال کا تحفظ بھی منتظمین کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس حوالے سے سنگین غفلت کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔
​یہ کہانی شندور پولو فیسٹیول 2023 کی ہے، جب چترال سی ٹیم کے کھلاڑی شکیل احمد ژانہ کھیل کے پہلے ہاف کے دوران دو گھوڑوں کے درمیان گر کر شدید زخمی ہوگئے اور سر پر گہری چوٹ آنے کی وجہ سے کومہ میں چلے گئے۔ انہیں ابتدائی طبی امداد کے لیے میڈیکل کیمپ منتقل کیا گیا، مگر وہاں مناسب سہولیات نہ ہونے کے باعث ڈاکٹروں نے فوری طور پر چترال منتقل کرنے کی ہدایت کی۔
​بدقسمتی سے کئی گھنٹوں کے انتظار کے بعد ریسکیو 1122 کی ایمبولینس کا انتظام ہو سکا، لیکن اس میں نہ مریض کو سہارا دینے کے لیے مناسب اسٹریچر موجود تھا اور نہ ہی آکسیجن سلنڈر کو محفوظ رکھنے کا انتظام۔ ناہموار شندور روڈ نے اس سفر کو مزید دشوار بنا دیا۔ آدھے گھنٹے کے بعد ہی ایمبولینس خراب ہوگئی، جس کے بعد ہرچین کے مقام پر دوسری ایمبولینس کا بندوبست کیا گیا، مگر اس کا دروازہ خراب تھا جس کی وجہ سے زخمی کھلاڑی کو بڑی مشکل سے اندر منتقل کیا گیا۔ کچھ فاصلے پر یہ ایمبولینس بھی پنچر ہوگئی اور فنی خرابی کے باعث پنچر تبدیل کرنا بھی ممکن نہ رہا۔
​بعد ازاں مستوج سے تیسری ایمبولینس منگوائی گئی، جس کے پہنچنے میں بھی کافی تاخیر ہوئی۔ مستوج اسپتال میں ابتدائی علاج کے بعد بونی اور پھر لوئر چترال کے لیے الگ الگ ایمبولینسوں کے ذریعے مسلسل سفر جاری رہا۔ اس دوران انتظامی بے حسی اور گاڑیوں کی خرابی کے باعث شندور سے چترال تک کا عام طور پر 6 گھنٹے کا سفر، شدید اذیت ناک حالت میں 15 گھنٹوں میں طے ہوا۔ شدید مشکلات کے بعد رات تقریباً تین بجے زخمی کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال چترال پہنچایا گیا، جہاں سی ٹی اسکین کے بعد انہیں فوری طور پر پشاور ریفر کرنے کا مشورہ دیا گیا۔
​حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور میں شکیل احمد ژانہ دس دن تک زیر علاج رہے، جس کے بعد انہیں ہوش آیا۔ اس دوران علاج پر لاکھوں روپے خرچ ہوئے، جبکہ علاج کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
​یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ کورکمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل سید عمر احمد بخاری نے پولو کے فروغ اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے جو اقدامات اٹھائے ہیں، وہ کسی سے چھپے ہوئے نہیں ہیں۔ اس سے پہلے ماضی میں کسی نے ایسے اقدامات نہیں اٹھائے۔ ان سے بھی پُرژور امید ظاہر کی جارہی ہے کہ وہ مستقبل میں پولو کھلاڑیوں کی بہبود کے لیے مزید اقدامات اٹھانے کے ساتھ ساتھ شکیل احمد ژانہ کے کیس پر بھی خصوصی غور فرمائیں گے تاکہ ایک زخمی کھلاڑی کو انصاف اور سرکاری سہارا دونوں میسر آ سکیں۔
​افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس وقت کے ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد عرفان نے علاج کے اخراجات میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی۔ مختلف تنظیموں، پولو ایسوسی ایشن اور فٹبال ایسوسی ایشن کی جانب سے بھی زخمی کھلاڑی کے لیے مالی تعاون کی قراردادیں اور درخواستیں پیش کی گئیں، لیکن تقریباً تین سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود ان سرکاری وعدوں پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔
​یہ معاملہ صرف ایک کھلاڑی کا نہیں بلکہ شندور پولو میں شریک ہر کھلاڑی کی جان اور مستقبل کا سوال ہے۔ اگر کھلاڑی خود کو میدان میں غیر محفوظ سمجھیں گے، تو وہ اس تاریخی کھیل میں حصہ لینے سے گریز کریں گے، اور اگر کھلاڑی ہی نہ ہوں تو شندور پولو فیسٹیول کی رونق اور ثقافت بھی برقرار نہیں رہ سکتی۔
​ضرورت اس امر کی ہے کہ شندور پولو فیسٹیول کے دوران جدید طبی سہولیات، مکمل طور پر فعال ایمبولینسیں، تربیت یافتہ میڈیکل عملہ اور ایمرجنسی کی صورت میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور یا راولپنڈی منتقل کرنے کا مؤثر نظام موجود ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ زخمی کھلاڑیوں کے علاج معالجے کے تمام اخراجات کی ادائیگی کو انتظامیہ اور منتظمین کی قانونی ذمہ داری بنایا جائے۔
​شکیل احمد ژانہ کے علاج پر آنے والے اخراجات کی ادائیگی بھی فوری طور پر کی جانی چاہیے تاکہ یہ پیغام جائے کہ ریاست اور منتظمین اپنے ہیروز کو مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑتے۔ جو نوجوان اپنی جان خطرے میں ڈال کر شندور کی اس عظیم روایت کو زندہ رکھتے ہیں، وہ ہماری توجہ، احترام اور عملی تعاون کے حقیقی مستحق ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button