مضامین

عالمی یومِ انسداد منشیات: نوجوان نسل کو اس ناسور سے بچانا ہم سب کی ذمہ داری..​تحریر: بشیر حسین آزاد

دنیا بھر میں 26 جون کو یومِ انسداد منشیات(International Day Against Drug Abuse and Illicit Trafficking) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد منشیات کے استعمال اور غیر قانونی تجارت کے خلاف شعور اجاگر کرنا اور معاشرے کو اس خطرناک ناسور سے بچانے کے لیے اقدامات کو فروغ دینا ہے۔

​منشیات آج ہمارے معاشرے کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے۔ سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ نوعمر نوجوانوں میں منشیات کے استعمال کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے، جو ہمارے مستقبل کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ نوجوان نسل کسی بھی ملک کا سرمایہ ہوتی ہے، لیکن منشیات کی لعنت انہیں تعلیم، صحت اور مثبت زندگی کے راستے سے دور لے جا رہی ہے۔

 

 

​منشیات کی طلب کئی نوجوانوں کو چوری، جرائم اور دیگر سماجی برائیوں کی طرف راغب کرتی ہے۔ اس ناسور کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر آج ہم نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو آنے والی نسلوں کو اس کے خطرناک نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

​منشیات فروشوں کے خلاف پولیس کی جانب سے آئے روز کارروائیاں اور گرفتاریاں قابلِ تحسین ہیں، لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ اس معاملے میں تمام ادارے ایک مضبوط حکمت عملی کے تحت کام کریں۔ بعض اوقات گرفتار افراد دوبارہ ضمانت پر رہا ہو جاتے ہیں، جس سے یہ مکروہ کاروبار دوبارہ شروع ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ پولیس، انتظامیہ، عدالتیں اور وکلاء برادری اگر مل کر اس ناسور کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں تو اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

 

 

​چترال کی کالاش وادیوں میں دیسی شراب کے حوالے سے بھی متوازن پالیسی کی ضرورت ہے۔ کالاش اقلیتی برادری کے ثقافتی اور مذہبی معاملات کا احترام ضروری ہے، تاہم اگر کوئی شخص اسے کاروبار اور منافع کا ذریعہ بنا کر نوجوانوں کو نقصان پہنچا رہا ہے تو ایسے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ اس سلسلے میں متعلقہ اداروں کے ساتھ علماء کرام اور سماجی رہنماؤں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

​آئس، چرس اور ہیروئین جیسی منشیات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اداروں کو اپنی انٹیلیجنس نظام کو مزید فعال بنانا ہوگا۔ ٹرانسپورٹ اڈوں کی نگرانی، مشکوک افراد کی آمدورفت پر نظر اور منشیات کے نیٹ ورک تک پہنچنے کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

​اس کے ساتھ ساتھ ہر علاقے کے عوام کو بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہوگی۔ منشیات فروشوں کے خلاف اجتماعی آواز بلند کی جائے اور ایسے عناصر کا سماجی بائیکاٹ کی جائے تاکہ انہیں احساس ہو کہ معاشرہ اس تباہ کن عمل کو قبول نہیں کرتا۔

​منشیات کے خلاف جنگ صرف حکومت یا اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر ہم سب مل کر اس ناسور کے خلاف عملی جدوجہد کریں تو اپنی نوجوان نسل کو محفوظ اور بہتر مستقبل دیا جا سکتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button