صدقۂ جاریہ۔۔۔ ایک کنواں نہیں، بحرِ بے کراں ہے۔۔تحریر: مبشرالملک

اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کو صرف چند عبادات تک محدود نہیں کرتا بلکہ پوری زندگی کو عبادت بنا دیتا ہے۔ اسی طرح صدقۂ جاریہ بھی صرف مسجد، مدرسہ یا کنواں تعمیر کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ رحمت کا ایک ایسا بحرِ بے کراں ہے جس میں ہر وہ عمل شامل ہو سکتا ہے جس سے اللہ کی مخلوق کو مستقل یا دیرپا فائدہ پہنچے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ﴾ “تم ہرگز نیکی کے اعلیٰ مقام کو نہیں پا سکتے جب تک اپنی پسندیدہ چیزوں میں سے خرچ نہ کرو۔” (سورۃ آل عمران: 92)
ایک اور مقام پر فرمایا:
﴿مَثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ﴾ “جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیاں اگیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں۔” (سورۃ البقرۃ: 261)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جب انسان وفات پا جاتا ہے تو اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں، سوائے تین چیزوں کے: صدقۂ جاریہ، وہ علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے، اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔”
اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا:
“ہر نیکی صدقہ ہے۔”
یہ تعلیم اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ صدقہ صرف مال دینے کا نام نہیں بلکہ ہر وہ عمل جو مخلوقِ خدا کے لیے نفع بخش ہو، اللہ کے ہاں صدقہ ہے۔
اسلام نے سب سے پہلے والدین، اولاد، رشتہ داروں، یتیموں، پڑوسیوں، مسافروں، محتاجوں اور ضرورت مندوں پر خرچ کرنے کی تعلیم دی۔ لیکن اس کے بعد خیر کے دروازے بند نہیں ہو جاتے۔ انسانیت کی خدمت، علم کی اشاعت، ماحول کی حفاظت، جانوروں کی دیکھ بھال، پرندوں کے لیے پانی رکھنا، درخت لگانا، روزگار پیدا کرنا، نوجوانوں کو ہنر سکھانا، بیماروں کی خدمت، معذور افراد کی مدد، غریب طلبہ کی کفالت اور بے شمار دوسرے کام بھی اسی خیر کے وسیع میدان کا حصہ ہیں۔
لیکن آج انسانی ضروریات پہلے سے کہیں زیادہ وسیع ہو چکی ہیں۔
اور بہت سے ادارے این جی اوز ۔سیاسی پارٹیان مذہبی جماعتین مصروف عمل ہیں ۔خوشی کا بات یہ ہے کہ پاکستانی قوم صدقات و خیرات پہ خرچ کرنے والے چند مماک میں سرفہرست ہے۔چترال ہی میں درجن بھر ادارےے اور افراد اس ۔۔۔ ۔۔عظیم کام سے وابستہ ہیں ان کے نام لینا طوالت کا سبب بنے گا لیکن ان کےلیے ایواڈ اور تحسین تو بنتا ہے۔
اگر کسی علاقے میں ایک بچہ صرف اس لیے تعلیم سے محروم رہ جائے کہ اس کے پاس فیس نہیں، اگر کوئی نوجوان ہنر نہ ہونے کی وجہ سے بے روزگار رہے، اگر کوئی مریض دوا نہ ہونے کی وجہ سے تڑپتا رہے، نوجوان غربت کی وجہ سے دور کے رسومات کی مشکلات کے سبب شادی نہ کرسکیں۔اگر کوئی معذور سہولت سے محروم ہو، اگر ماحول تباہ ہو رہا ہو، نوجوان نشے کی لعنت میں مبتلا ہو اور علاج کے پیسے نہ ہوں۔یا اگر جانور اور پرندے پیاس سے مر رہے ہوں، تو ان میدانوں میں خدمت کرنا بھی اللہ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔
آج اگر کوئی شخص:
کسی طالب علم کو اسکالرشپ دیتا ہے،
کسی نوجوان کو ہنر سکھاتا ہے،
روزگار کا ذریعہ بنتا ہے،
ہسپتال یا لائبریری قائم کرتا ہے،
تعلیمی ادارہ بناتا ہے،
آن لائن علمِ نافع عام کرتا ہے،
درخت لگاتا ہے،
پانی کے برتن رکھتا ہے،
زخمی جانوروں کی مدد کرتا ہے،
یا انسانیت کے لیے کوئی مستقل فائدہ چھوڑ جاتا ہے،
تو امید ہے کہ وہ بھی صدقۂ جاریہ کے اجر میں شریک ہوگا، کیونکہ اصل مقصد اللہ کی مخلوق کو نفع پہنچانا ہے۔
یہاں تک کہ ایک درخت کا پودا بھی صدقہ ہے، کیونکہ اس سے انسان، پرندے، جانور، حتیٰ کہ چھوٹے حشرات بھی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ایک پانی کا برتن بھی صدقہ ہے، ایک مفید کتاب بھی صدقہ ہے، ایک سکھایا ہوا ہنر بھی صدقہ ہے، اور کسی کو باعزت روزگار تک پہنچانا بھی ایک عظیم خیر ہے۔
یاد رکھیے! اللہ تعالیٰ کے ہاں کبھی کسی نیکی کو معمولی نہیں سمجھا جاتا۔ بسا اوقات ایک کھجور کا دانہ، ایک گھونٹ پانی، ایک پودا، ایک کتاب، ایک ہنر، یا ایک مسکراہٹ بھی انسان کی نجات کا سبب بن جاتی ہے۔
آئیے، صدقۂ جاریہ کو صرف ایک کنویں یا ایک عمارت تک محدود نہ کریں، بلکہ اسے اللہ کی رحمت کے اس وسیع سمندر کے طور پر سمجھیں جس کی موجیں پوری انسانیت بلکہ پوری مخلوقِ خدا تک پہنچتی ہیں۔



