مضامین

: دھڑکنوں کی زبان…..”مردہ بلدیاتی نظام "…..محمد جاوید حیات

دنیا کے ترقی یافتہ اور جمہوری ممالک میں کامیاب جمہوریت اور نظام سلطنت کی ایک بڑی وجہ ان کا بلدیاتی نظام ہے .عوام کی نجی زندگی اور سہولتوں کا ذمہ دار بلدیاتی نظام ہوتا ہے .بلدیاتی ادارے عوام کی خدمت کرتے ہیں ان اداروں میں عوامی بلدیاتی نمائندے ہوتے ہیں یہ کسی بڑی پارٹی کی نرسری ہوتی ہے ملک میں جس پارٹی کی حکومت ہو اس کی کامیابی اور مقبولیت کا دارومدار بلدیاتی نمائندوں کی کارکردگی پر ہوتا ہے .دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں یہ ادارے عوام کی خدمت کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں جہان پر زندگی کی بنیادی سہولیات میں مسلہ پیدا ہو جائے تو متعلقہ بلدیہ کو اطلاع دی جاتی ہے بلدیہ کی گاڑی متعلقہ افراد کو لے کر فورا پہنچتی ہے شہر میں بلدیہ کی گاڑی کو وہی اہمیت دی جاتی ہے جو پروٹوکول ایمبولنس کی ہے .ان کے ایمرجنسی رابطہ نمب…
[3:54 pm, 29/06/2026] Bashir Hussain Azad: ​حضرت مولانا محمد صاحب الزمان رحمہ اللہ
​چترال کی دینی، تعلیمی، صحافتی اور ادبی تاریخ کا ایک روشن باب..بشیر حسین آزاد۔۔
​چترال کی سرزمین صدیوں سے علم و فضل، تہذیب و ثقافت اور دینی روایات کا مرکز رہی ہے۔ اس سرزمین نے ایسی نابغۂ روزگار شخصیات کو جنم دیا جنہوں نے اپنے علم، کردار اور خدمات کے ذریعے نہ صرف اپنے عہد کو متاثر کیا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی روشن نقوش چھوڑے۔ ان ہی درخشاں شخصیات میں حضرت مولانا محمد صاحب الزمان رحمہ اللہ کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔
​حضرت مولانا محمد صاحب الزمان رحمہ اللہ 1924ء میں چترال کی خوبصورت اور تاریخی وادی آیون میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ایسے ماحول میں آنکھ کھولی جہاں مذہبی اقدار، علمی ذوق اور تہذیبی روایات کو بڑی اہمیت حاصل تھی۔ بچپن ہی سے آپ میں علم حاصل کرنے کا شوق اور دینی خدمت کا جذبہ نمایاں تھا۔
​اعلیٰ دینی تعلیم کے حصول کے لیے آپ برصغیر کی عظیم علمی درسگاہ دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے۔ وہاں اکابر علماء کی صحبت میں رہ کر علمِ دین حاصل کیا اور 1946ء میں سندِ فراغت حاصل کی۔ آپ کو شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ جیسے عظیم استاذ سے خصوصی استفادے کا موقع ملا اور آپ ان کے خاص شاگردوں میں شمار ہوتے تھے۔ بعد میں جمعیۃ علماء ہند کے ممتاز قائدین حضرت مولانا اسعد مدنی رحمہ اللہ اور حضرت مولانا ارشد مدنی بھی آپ کے شاگردوں میں شامل رہے، جو آپ کے علمی مقام و مرتبہ کی روشن دلیل ہے۔
​قیامِ پاکستان کے بعد آپ نے دینی خدمات کا سلسلہ جاری رکھا۔ اکوڑہ خٹک میں حضرت مولانا عبد الحق رحمہ اللہ کی سرپرستی میں مدرسہ حقانیہ کے نظم و نسق سے وابستہ رہے اور بطور ناظم خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں آپ چترال واپس تشریف لائے اور یہاں دینی تعلیم کے فروغ کے لیے ایک عظیم مشن کا آغاز کیا۔
​بانیٔ دارالعلوم چترال
​چترال میں دینی تعلیم کے فروغ کے لیے آپ نے دارالعلوم چترال کی غیر رسمی بنیاد ریاستی حکومت کی اجازت اور دارالعلوم دیوبند کے دیگر فضلاء کے مشاورت سے رکھی۔ یہ مبارک ادارہ 1952ء میں باقاعدہ محکمہ تعلیم میں رجسٹر ہوا اور محکمہ تعلیم نے اس ادارے کو اپنے ساتھ منسلک کرتے ہوئے مڈل سکول کا درجہ دیا۔ یہ وہ تاریخی ادارہ ہے جس نے بعد کے عشروں میں چترال اور گرد و نواح کے ہزاروں طلبہ کو علمِ دین سے آراستہ کیا۔ اس ادارے کے قیام میں آپ کی بصیرت، اخلاص اور قربانیوں کا بنیادی کردار ہے۔ آج بھی دارالعلوم چترال کی علمی خدمات دراصل اسی مبارک بیج کا ثمر ہیں جو حضرت مولانا محمد صاحب الزمان رحمہ اللہ نے بویا تھا۔
​شاہی مسجد چترال کی خطابت
​دارالعلوم کے قیام کے بعد آپ شاہی مسجد چترال کے خطیب مقرر ہوئے۔ آپ کے خطبات میں قرآن و سنت کی روشنی، اکابرین کی فکر، اعتدال، اخلاص اور اصلاحِ معاشرہ کا حسین امتزاج پایا جاتا تھا۔ آپ نے ہمیشہ امت کے اتحاد، دینی شعور اور اخلاقی اصلاح کو اپنی دعوت کا محور بنایا۔
​چترال کے عوام آپ کو ایک غیر متنازع، معتدل اور خیرخواہ عالم کے طور پر جانتے تھے۔ مختلف مکاتبِ فکر اور طبقات کے لوگ آپ کی شخصیت کا احترام کرتے تھے اور آپ کی رائے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔
​ایک کامیاب معلم
​دینی خدمات کے ساتھ ساتھ آپ گورنمنٹ ہائی سکول چترال میں پشتو زبان کے استاد بھی رہے۔ آپ نے ہزاروں طلبہ کو تعلیم دی اور ان کی فکری و اخلاقی تربیت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آج چترال کے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دینے والے بے شمار افراد آپ کے شاگرد ہونے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔
​آپ تعلیم کو محض روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ انسان سازی کا عمل سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے شاگرد صرف علم ہی نہیں بلکہ کردار اور اخلاق کا سبق بھی آپ سے سیکھتے تھے۔
​چترال میں اردو صحافت کے بانیوں میں ایک نمایاں نام
​حضرت مولانا محمد صاحب الزمان رحمہ اللہ کا ایک اہم تعارف صحافت بھی ہے۔ آپ چترال میں اردو صحافت کے اولین معماروں میں شمار ہوتے ہیں۔ جب صحافت کے وسائل محدود تھے اور طباعت کے جدید ذرائع موجود نہیں تھے، اس وقت آپ نے قلم کو معاشرتی اصلاح، فکری بیداری اور دینی رہنمائی کا ذریعہ بنایا۔
​پاکستان کے ابتدائی دور میں جب مشہورِ زمانہ اخبار ’’زمیندار‘‘ چترال پہنچتا، تو اس کی اہم سرخیاں (شاہ سرخیاں) آپ اپنے دستِ مبارک سے تحریر کیا کرتے تھے۔ آپ کی خطاطی اس قدر عمدہ تھی کہ لوگ اسے فن کا نمونہ سمجھتے تھے۔
​بعد ازاں آپ نے ’’ہفت روزہ تریچ میر‘‘ کے نام سے اپنا اخبار جاری کیا، جو چترال کی صحافتی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔ اس اخبار نے علاقے میں علمی، ادبی اور سماجی شعور پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
​خطاط، ادیب اور شاعر
​حضرت مولانا محمد صاحب الزمان رحمہ اللہ کو خطاطی کے فن میں غیر معمولی مہارت حاصل تھی۔ ان کا قلم حسنِ تحریر اور جمالیاتی ذوق کا آئینہ دار تھا۔ وہ صرف عالمِ دین ہی نہیں بلکہ ایک صاحبِ قلم ادیب بھی تھے۔
​آپ کا مقامی زبان کھوار ادب سے بھی گہرا تعلق تھا۔ مقامی تہذیب، زبان اور ادبی روایات کے فروغ میں آپ کی دلچسپی نمایاں تھی۔ آپ مختلف ادبی مجالس میں شریک ہوتے اور اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔
​ملک کے معروف ماہنامہ ’’جمہورِ اسلام‘‘ میں آپ کے علمی، دینی اور اصلاحی مضامین باقاعدگی سے شائع ہوتے رہے۔ آپ کی تحریروں میں علمی وقار، فکری پختگی اور دعوتی بصیرت نمایاں ہوتی تھی۔
​بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ آپ ایک اچھے شاعر بھی تھے۔ آپ کی شاعری میں دینی جذبہ، اصلاحِ معاشرہ، اخلاقی اقدار اور انسانی ہمدردی کے جذبات جھلکتے تھے۔ آپ کا شعری ذوق آپ کی علمی اور ادبی شخصیت کا ایک خوبصورت پہلو تھا۔
​ایک شفیق انسان اور مثالی والد
​حضرت مولانا محمد صاحب الزمان رحمہ اللہ نہایت نرم مزاج، شفیق، مخلص اور دعا گو انسان تھے۔ آپ لوگوں کے دکھ درد میں شریک ہوتے، ضرورت مندوں کی مدد کرتے اور نوجوانوں کی تربیت کو اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے۔
​اپنی اولاد کے لیے بھی آپ بہترین مربی اور مشفق والد تھے۔ آپ نے اپنی اولاد کو علم، دیانت، خدمتِ دین اور حسنِ کردار کا وہ سرمایہ عطا کیا جو دنیا کی ہر دولت سے بڑھ کر ہے۔
​مشن کا تسلسل
​1991ء میں حضرت مولانا محمد صاحب الزمان رحمہ اللہ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے، لیکن ان کا مشن ختم نہیں ہوا۔
​ان کے وصال کے بعد ان کے فرزند مولانا خلیق الزمان صاحب نے شاہی مسجد چترال کی خطابت کی ذمہ داری سنبھالی اور الحمدللہ آج بھی اس منصب پر فائز ہیں۔ اسی طرح وہ دارالعلوم چترال کے صدر مدرس کی حیثیت سے ادارے کے تعلیمی و انتظامی امور کو کامیابی کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں۔
​گزشتہ برسوں میں شاہی مسجد چترال میں متعدد ترقیاتی منصوبے مکمل کیے گئے، نمازیوں کے لیے جدید سہولیات فراہم کی گئیں اور مسجد کو دینی و سماجی سرگرمیوں کا فعال مرکز بنایا گیا۔ یہ سب دراصل حضرت مولانا محمد صاحب الزمان رحمہ اللہ کے قائم کردہ مشن کا تسلسل ہے۔
​خراجِ عقیدت
​حضرت مولانا محمد صاحب الزمان رحمہ اللہ بیک وقت عالمِ دین، خطیب, معلم، منتظم، صحافی، خطاط، ادیب، شاعر اور مصلحِ معاشرہ تھے۔ چترال کی تاریخ میں بہت کم شخصیات ایسی گزری ہیں جنہوں نے اتنے مختلف میدانوں میں یکساں اخلاص اور کامیابی کے ساتھ خدمات انجام دی ہوں۔
​ان کے شاگرد، ان کی تحریریں، ان کے قائم کردہ ادارے، ان کے علمی آثار اور ان کی نیک نامی آج بھی ان کے لیے صدقۂ جاریہ ہیں۔
​اللہ تعالیٰ حضرت مولانا محمد صاحب الزمان رحمہ اللہ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور ان کے علمی و دینی فیوض کو قیامت تک جاری و ساری رکھے۔ آمین۔
​نقش ہیں باقی ابھی تک جن کے اس ایوان میں
وہ مسافر جا چکے ہیں، کارواں زندہ رہا
​علم و عمل کا تھا پیکر، اخلاص تھا پہچان جس کی
چترال آج بھی کرتا ہے ناز ایسی شان پر جس کی

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button