تازہ ترین
خیبر پختونخوا حکومت کا وفاق سے نئے این ایف سی ایوارڈ کے اعلان تک خصوصی پیکیج کا مطالبہ


ہیں جبکہ باقی 80فیصد وسائل صوبوں کو ملنے چاہئیں واضح رہے کہ ساتویں این ایف سی کے تحت مرکز 42.55، پنجاب 51.74 فیصد، سندھ 24.55فیصد، خیبر پختونخوا 14.62فیصد اور بلوچستان 9.09فیصد فنڈز لے رہا ہے وفاق کے پچھلے این ایف سی اجلاس میں فیصلہ ہوا تھا کہ صوبائی خودمختاری کے بعد18ویں آئینی ترمیم، نیشنل ایکشن پلان، غیرملکی امداد کے شفاف استعمال کیلئے پائیدار ترقی کے اہداف اور سی پیک کے ممکنہ اثرات کے مطابق ایوارڈ کی تشکیل ہوگی مگر وفاق کی طرف سے کوئی پیشرفت نہ ہو سکی دوسری طرف وفاق کے غیرملکی قرضے 21ارب روپے سے تجاوز کر گئے جو 2008کے مقابلے میں دوچند ہیں اور افراط زر میں بھی مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے مظفر سید ایڈوکیٹ نے اس بات کو بھی افسوسناک قرار دیا کہ پن بجلی منافع سمیت مرکز کی طرف سے نئے صوبائی بجٹ کیلئے ہمارے گارنٹی شدہ فنڈز 72ارب روپے تاحال پورے ادا نہیں کئے گئے جو ہمارے کل بجٹ کا 80فیصد سے زائد وسائل بنتے ہیں تیل و گیس سیس کی مد میں 29ارب روپے اور 1991 کے پانی تقسیم معاہدے کے تحت 119ارب روپے کی ادائیگی بھی باقی ہے انہوں نے صوبے کے مسائل قومی سطح پر اجاگر کرنے پر وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی سیاسی بصیرت کو سراہا اور واضح کیا کہ صوبے کی مالیاتی حالت کی بہتری کیلئے ٹھوس اور دور رس اقدامات وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکے ہیں انہوں نے اس استدلال سے مکمل اتفاق کیا کہ صوبے میں بیروزگاری، افغان مہاجرین و آئی ڈی پیز،دہشت گردی اور امن و امان کے مسائل کی وجہ سے غربت، بیروزگاری اور پسماندگی انتہا کو چھونے لگی ہے جبکہ یہاں کے عوام میں احساس محرومی کا گراف بھی 75فیصد سے تجاوز کر گیا جس کا وفاق کو احساس ہونا چاہئے اور اسکی تلافی آئین کے مطابق حقوق کی جلد از جلد ادائیگی سے ہی ممکن ہے ہمارے مالی نقصانات میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے دہشت گردی کی مد میں فنڈز کے صرف ایک فیصد کی فراہمی ہماری کمزور معیشت کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے اور اسے پانچ فیصد کرنا بھی ناگزیر ہو چکاہے حالانکہ اس صوبے کا معاشی استحکام پوری قومی ترقی کا ضامن بنے گا۔