131

چترال بچاو پاکستان بچاو مہم کا آغاز

پشاور(نمائندہ ڈیلی چترال) سابقہ تحصیل ناظم چترال سراج احمد خان اور چترال جرنلسٹس فورم نے چترال بچاؤ پاکستان بچاؤ مہم کا آغاز کرتے ہوئے حکومت سے تیس میگاواٹ مفت بجلی چترال کے عوام کو فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ یہ مطالبہ انہوں نے گزشتہ روز پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر انکے ہمراہ چترال جرنلسٹس فورم کے جنرل سیکرٹری نادر خواجہ، حاجی عبدالجلیل جان اوردیگر بھی موجود تھے ۔ انہوں نے کہا کہ گولین گول ہائیڈل پراجیکٹس سے حاصل ہونے والی 129 میگاواٹ بجلی میں چترالی عوام کو تیس میگاواٹ بجلی بطور ایندھن مفت دی جائے تاکہ جنگلات کو بطور سوختنی کا استعمال کم ہو ۔ انہوں نے حکومت کو چارٹرڈ آف ڈیمانڈ پیش کرتے ہوئے کہا کہ جنگلاتی علاقوں کے باشندوں کو سو فیصد رائیلٹی دی جائے ۔ اقوام متحدہ کا مختص کیا گیا کاربن فنانس فنڈ سے جنگلاتی علاقے کے لوگوں کے سو فیصد رائیلٹی دی جائے اور ہر ویلی سے جنگل آگاؤ مہم کیلئے پانچ سو بندوں کا فورس بھرتی کی جائے ۔ دریائے کابل کا نام دریائے چترال رکھا جائے ‘ ضلع چترال کو واٹر رائٹس دےئے جائیں ‘ ایل این جی اور سوئی گیس ڈیپارٹمنٹ کا قیام چترال میں جنگی بنیادوں پر کیا جائے ‘ چترال میں کول ڈیپو بنایا جائے اور چگدرہ میں واقع ڈیپو کر چترال منتقل کیا جائے ۔ انہو ں نے غیر ملکی اور ملکی غیر سرکاری تنظیموں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ چترال کی آباد کاری میں اپنا کردار ادا کریں ۔ چترال کے عوام کو دوبارہ آباد کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے جو کہ حکومت کی جانب سے بہت کم اور نہ ہونے کے برابر ہے ۔ سیلاب کے 15 روز گزر جانے کے بعد بھی ابھی تک لوگ کھلے آسمان تلے بے یارومدد گار پڑے ہیں اور نہ ہی ان کے پیدل چلنے کیلئے شہراکو کھولا گیا ہے جو کہ افسوس ناک امر ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں