95

عام انتخابات کی تیاری۔۔۔۔۔پروفیسررفعت مظہر

یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے سیاسی جماعتیں انتخابی اکھاڑے میں کود پڑی ہوں ۔میاں نوازشریف جگہ جگہ افتتاح کر رہے ہیں اور سابق صدرآصف زرداری نے لاہور میں بلاول ہاؤس میں ڈیرے ڈال دیئے ہیں ۔ وہ جب سے پاکستان آئے ہیں ’’اَوکھے اَوکھے‘‘ بیانات دے رہے ہیں ۔ ویسے اُن کے بیانات ہیں بہت مزیدار ۔ مثلاََ یومِ پاکستان کے موقعے پر اُنہوں نے فرمایا کہ حکمران ایسے کام کرتے ہیں جِن میں کمیشن ملے ۔ حکمران سڑکیں اور پُل بنا کر کمیشن بنا رہے ہیں لیکن ہم تاریخ میں زندہ رہنا چاہتے ہیں ۔ حکمرانوں کو غریبوں کی کوئی پرواہ نہیں ۔ اُن کی نظریں صرف کمیشن پر ہیں ۔ جب بھی پاکستان بچانے کی بات آئی ہم نے ’’پاکستان کھَپے‘‘ کا نعرہ لگایا ۔ زرداری صاحب کا یہ بیان پڑھ کر ہم ہنسے بنا نہ رہ سکے کیونکہ’’ نَو سو چوہے کھا کے بلّی حج کو چلی‘‘ والا محاورہ زرداری صاحب پر بالکل فِٹ بیٹھ رہا تھا ۔
یہ کوئی ڈَھکی چھُپی بات نہیں کہ محترمہ بینظیر کی وزارتِ عظمیٰ کے پہلے دَور سے لے کر اپنی صدارت کے آخری دِن تک زرداری صاحب نے مال کمانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں گنوایا ۔ مسٹر ٹین پرسنٹ سے سنٹ پرسنٹ تک کے سفر کا ایک عالم گواہ ہے ، ملتان کے گدی نشین وزیرِاعظم اُنہی کے مفادات کی بھینٹ چڑھے اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف ڈائس پہ لگے مائیک یہی کہہ کر توڑا کرتے تھے ’’اگر میں نے آصف زردار کو سڑکوں پر نہ گھسیٹا تو میرا نام نہیں‘‘۔ زَربابا چالیس چور کا نعرہ بھی خادمِ اعلیٰ نے ہی زباں زدِعام کیا لیکن جب مرکز اور پنجاب میں نوازلیگ کو دوتہائی اکثریت ملی اور کڑے احتساب کا وقت آیا تو خادمِ اعلیٰ کا دعویٰ محض خالی خولی بڑھکیں ثابت ہوا ۔ اب آصف زرداری اُن پر کمیشن کھانے کا الزام دَھر رہے ہیں لیکن ابھی تک اُنہوں نے سڑکوں پر گھسیٹنے کی بات نہیں کی شاید کَل کلاں یہ بھی کہہ دیں۔
محترمہ بینظیر کی شہادت پر واقعی بلوچ سردار نے جذباتی ماحول میں ’’پاکستان کھَپے ‘‘ کا نعرہ بلند کیا اور ہم پاکستانیوں نے یہ سمجھا کہ بینظیرکی شہادت کے بعد شاید پاکستان کو ایک مخلص رہنماء میسر آ گیالیکن ہوا یہ کہ اُنہوں نے واقعی پاکستان ’’کھپا ‘‘ دیا اور کرپشن کی ایسی ایسی کہانیاں منظرِ عام پر آئیں کہ کرپٹ ترین لوگ بھی کانوں کو ہاتھ لگانے لگے ۔ لوگ کہتے تھے کہ’’ بمبینوسینما‘‘ میں ٹکٹیں بلیک کرنے والا کھَرب پتی کیسے بن گیا ؟۔
اب چونکہ اگلے انتخابات کا وقت آن پہنچا ہے اور وزیرِاعظم صاحب نے بھی اپنے اراکینِ اسمبلی کو اپنے اپنے حلقوں میں کام تیز کرنے کی ہدایت کر دی ہے ۔ وہ خود بھی افتتاح کے بہانے جگہ جگہ جلسوں سے خطاب کر رہے ہیں ۔ اِسی لیے زرداری صاحب نے بھی لاہور میں ڈیرے ڈال لیے ہیں ۔ یہ تو ہر کوئی جانتا ہے کہ جس نے پنجاب جیت لیا ، مرکز میں اُسی کی حکومت ہو گی ۔جب 2013ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی بُری طرح پَٹ کر دیہی سندھ تک محدود ہو گئی تو زرداری صاحب پِٹا ہوا مہرہ سمجھے جانے لگے ، تب بلاول زرداری کو سامنے لایا گیا لیکن سیاسی نَووارد بلاول محض مذاق بَن کر رہ گئے ۔ اُن کی رَومن اُردو میں لکھی گئی تقریروں کا جگہ جگہ مذاق اُڑایا جانے لگا۔ اِسی لیے زرداری صاحب نے ایک دفعہ پھر پیپلزپارٹی کی قیادت سنبھال لی اور بلاول پَس منظر میں چلا گیا ۔ تاحال تو زرداری صاحب پیپلز پارٹی کی کھوئی ہوئی ساکھ بچانے میں ناکام ہی نظر آتے ہیں اور مستقبل میں بھی ایسا ہوتا ہوا نظر نہیں آتا کیونکہ پیپلز پارٹی کے اندر عام بَد دلی پھیلی ہوئی دکھائی دیتی ہے اور پیپلز پارٹی کے پُرانے اراکین اب بھی زرداری صاحب کی بجائے بلاول کو ہی سامنے لانا چاہتے ہیں کیونکہ اُن کے خیال میں پیپلزپارٹی کا ’’بیڑہ غرق‘‘ زرداری صاحب نے ہی کیا اور اب وہ رہی سہی کَسر پوری کرنے آئے ہیں ۔ اِس لیے یوں محسوس ہوتا ہے کہ کم از کم پنجاب کی حد تک پیپلز پارٹی کوئی کارنامہ سرانجام دینے سے قاصر ہی رہے گی ۔
یوں تو پنجاب میں پیپلزپارٹی کا فوکس نوازلیگ ہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پچھلے انتخابات میں پنجاب سے پیپلز پارٹی کا صفایا نواز لیگ سے کہیں زیادہ تحریکِ انصاف نے کیا اور اب بھی وہ پیپلزپارٹی سے کہیں زیادہ مقبول ہے ۔ اِس وقت تو کپتان صاحب بَنی گالہ میں آرام فرما رہے ہیں کیونکہ اُنہیں پانامہ لیکس کے فیصلے کا انتظار ہے لیکن جونہی یہ فیصلہ آیا ، وہ خواہ تحریکِ انصاف کے حق میں ہو یا نوازلیگ کے ، کپتان صاحب پوری توانائیوں کے ساتھ نکل کھڑے ہوں گے ۔ اگر فیصلہ نوازلیگ کے خلاف آیا تو کپتان صاحب کا جوش و جذبہ اور جنوں عروج پر ہوگا لیکن اگر مخالفت میں بھی آیا ، تب بھی وہ کوئی نہ کوئی بہانہ تراش کر سڑکوں پر ہوں گے ۔ ایسی صورت میں نوازلیگ کو توکچھ فرق نہیں پڑے گا لیکن پچھلے انتخابات کی طرح پیپلز پارٹی ہاتھ ملتی رہ جائے گی اور اُس کے پَلّے ’’کَکھ‘‘ نہیں رہے گا۔
سندھ میں نوازلیگ کی تقریباََ وہی پوزیشن ہے جو پنجاب میں پیپلزپارٹی کی ۔ دیہی سندھ کی طرف تاحال نوازلیگ کا دھیان ہے نہ پی ٹی آئی کا، اِس لیے دیہی سندھ میں پیپلزپارٹی ہی میدان مارے گی البتہ شہروں میں صورتِ حال شاید کچھ مختلف ہو جائے کیونکہ ایم کیو ایم ٹکڑے ٹکڑے ہونے کے بعد کافی حد تک کمزورہو گئی ہے اور ’’الطاف بھائی فیکٹر‘‘ کے خاتمے کے بعد خوف کی فضاء بھی تقریباََختم ہو چکی ہے ۔ اگر تحریکِ انصاف اور نوازلیگ نے سندھ کے شہروں میں بھرپور انتخابی مہم چلائی تو اُنہیں حصّہ بقدرِ جُثہ ملنے کے بھرپور امکانات ہیں اور پیپلزپارٹی کو بھی کچھ نہ کچھ مِل ہی جائے گا۔ بلوچستان میں اگر نوازلیگ کے اتحادیوں (پختونخوامِلّی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی )کا ساتھ رہا تو اِس اتحاد کو حکومت بنانے سے کوئی نہیں روک سکے گا ۔ اِس صوبے میں پیپلزپارٹی کا تو پھر بھی تھوڑا بہت ووٹ بینک ہے لیکن تحریکِ انصاف کی نہ کوئی یہاں مؤثر تنظیم ہے اور نہ ہی ووٹ بینک۔ ویسے بھی سی پیک منصوبے کی وجہ سے نوازلیگ یہاں پنجے گاڑ چکی ہے ۔ چین اور پاکستان کی دوستی معاشی انقلاب میں ڈھل چکی ہے اور دُنیا کے 52 ممالک سی پیک منصوبے میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔ یہ فیکٹر یقیناََ آمدہ انتخابات پر اثرانداز ہو گا اور عین ممکن ہے کہ بلوچستان میں نوازلیگ اکیلے ہی حکومت بنانے کے قابل ہو جائے۔
خیبرپختونخوا میں صورتِ حال بہت دلچسپ ہے ۔ یہاں تحریکِ انصاف کی حکومت سوائے زبانی دعووں کے کوئی قابلِ ذکر کامیابی حاصل نہیں کر سکی، اِس لیے بظاہر یہی نظر آتا ہے کہ اگلے انتخابات میں تحریکِ انصاف کو شدید دھچکا پہنچے گا۔ اِس صوبے کی تاریخ یہ ہے کہ ہمارے پختون بھائی ہر ٹَرم پر نئی جماعت کا ہی انتخاب کرتے ہیں۔ یہاں ہر سیاسی جماعت حکومت کا مزہ چَکھ چکی ہے لیکن اگلی ٹرم میں پختون بھائی تبدیلی کا نعرہ لگاتے ہوئے دوسری جماعت کی طرف چل نکلتے ہیں ۔ محترم عمران خاں نے تبدیلی کا نعرہ لگایا تو پختونوں نے اُن کی آواز پہ لبّیک کہا لیکن اب اُن کی مایوسی اور بَددلی اپنی انتہاؤں کو چھو رہی ہے ۔ تحریکِ انصاف اندرونی طور پر بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ، اِس لیے اگر کوئی معجزہ رونما نہ ہوا تو یہ صوبہ تحریکِ انصاف کے ہاتھ سے پھسل جائے گا ۔
مختصر یہ کہ 2018ء کے انتخابات میں کسی بڑی تبدیلی کے امکانات نظر نہیں آتے ۔ رہی پاناما لیکس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی بات ، اوّل تو اِس فیصلے سے نوازلیگ کو زَک پہنچنے کے امکانات معدوم ہیں لیکن اگر فیصلہ میاں نوازشریف اور اُن کے خاندان کے خلاف آ بھی گیا تو پھر بھی کسی بڑی تبدیلی کا امکان نہیں کیونکہ ایسی صورت میں ہمدردی کا ووٹ بھی نوازلیگ کے کھاتے میں چلا جائے گاکہ یہی پاکستان کی تاریخ ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں