56

پختونخوا کے ہسپتالوں میں ملازمین کا ہڑتال چھٹے روز بھی جاری، مریض شدیدمشکلات سے دوچار

پراونشل ہیلتھ الاونس نہ ملنے پر خیبرپحتونخواکے سرکاری ہسپتالوں میں کلاس فور ملازمین کا احتجاج چھٹے روز میں داخل ہوگیا ہے ،ہڑتالی ملازمین او پی ڈیز کو تالے لگا کر صرف ایمرجنسی میں ڈیوٹیاں انجام دے رہے ہیں ۔ ملازمین کے ہڑتال کے باعث او پی ڈیز آنے والے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جن کا کہنا ہے کہ وہ روزانہ ہسپتال آتے ہیں تاہم ہڑتال کے باعث واپس چلے جاتے ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے ان کےلئے کوئی متبادل بندوبست بھی نہیں کیا گیا۔اس حوالہ سے مردان میڈیکل کمپلیکس میں علاج کی غرض سے اپنے داد کو لانے والے شاه حسین نامی شخص نےٹی این این کوبتایا کہ ” میں ایک غریب محنت کش آدمی ہوں اورکام کاج چھوڑ کر اپنے داد کو علاج کےلئے میڈٰکل وارڈ لایا ہوں لیکن گزشتہ کئی دنوں سے اوپی ڈی بندش کے باعث وہ یہاں در بدر کی ٹوکریں کھا کرخوارہورہے ہیں، انہوں نے بتایا کہ ملازمین نے ہڑتال کو 11 اپریل تک جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے جس کے باعث وارڈز اور او پی ڈیز میں مریضوں کو دیکھنے کےلئے کوئی بھی موجود نہیں ہے انہوں نے حکومت سےمطالبہ کیا کہ  او پی ڈیز کھلوائی جائے یا ملازمین کو فارغ کرکےسرکاری ہسپتالیں بند کردی جائے۔ واضح رہے کہ صوبائی حکومت نے ہڑتالی ملازمین سے نمٹنے کےلئے ان کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا تھا تاہم ہڑتال تاحال جاری ہے جبکہ گزشتہ روز پشاور لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں مینجنمنٹ ڈائریکٹر پر تشدد کرنےکے الزام میں 5 ہڑتالی ملازمین کے خلاف مقدمات درج کرلئے گئے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں