160

یوم آزادی کا سورج ۔۔۔محمد جاوید حیات ؔ

fffگورنمنٹ سنٹینئل ماڈل ہائی سکول چترال میں یوم آزادی کی تقریب سجی تھی سارے مہمان آگئے تھے ابھی اسٹیج سیکرٹری پروگرام کے اغاز کا اعلان کرتا ۔ کہ سورج یکدم نصف نیزے پہ آگیا سارے حاضرین حیران ہوئے ۔ مگر گرمی نہیں ایک خوشگوار ٹھنڈک سب کے چہروں پر پڑی ۔ اس غیر معمولی واقع سے سب حیران کھڑے ہوئے تو سورج گو یا ہوا ۔میرے عظیم بزرگو!تعلیم یافتہ بھائیو اور پیارے بچو! دنیاکی پیدائش میرے سامنے ہوئی ۔ مجھے اس چھوٹی سی دنیا کو گرمی اور روشنی مہیا کر نے کا حکم ہوا ۔ نامعلوم زمانے سے میری یہی ڈیوٹی ہے۔ دوستو! میں طلوع ہوتا ہوں پھرغروب ہوتا ہوں میرا سفر جاری ہے ۔ یہ چھوٹی سی دنیا جس کو اللہ نے زندگی سے بھردی ۔ نباتات، حیوانات ، پھر درندے ، چرندے ، پرندے اور انسان ۔۔۔دوستو! فطر ت کا قانون ہے کہ جو زبردست ہے وہ زبردست کا تابع ہے میرے نکلنے کے وقت کو صبح اور میرے ڈوبنے کے وقت کو شام کہا جاتا ہے ۔ شام کے بعد رات آتی ہے ۔ صبح کے بعد دن آتا ہے دن کو مخلوق کا م کرتی ہے رات کو آرام کرتی ہے میں جب نکلتا ہوں تو میری کرنیں شیر پر بھی پرتی ہیں ،لومڑی پر بھی پڑتی ہیں ،ہاتھی پر پڑتی ہیں چیونٹی پر بھی پڑتی ہیں ۔ ٹھاٹھیں مارتا سمند ر بھی میری کرنوں سے روشن ہوتا ہے۔ ابشاریں بھی چمک اٹھتی ہیں ۔ جھونپڑیاں بھی منور ہوتی ہیں محلات بھی روشن ہوتی ہیں ۔ لیکن یاد رکھو میری کرنیں اس وقت مایوس لوٹ آتی ہیں جب زبردست کی جگہ زیردست پر پڑتی ہیں ۔ آقا کی جگہ غلام پر پڑتی ہیں جاگتے ہوئے کی جگہ سوتے ہوئے پر پڑتی ہیں ۔ ہوشیار کی جگہ غافل پر پڑتی ہیں مظلوم کی جگہ ظالم پر پڑتی ہیں ۔ شریف کی جگہ مکار پر پڑتی ہیں ۔ محبت کی جگہ نفرت پر پڑتی ہیں ۔ایمان کی جگہ الحاد پر پڑتی ہیں ۔ حیا کی جگہ بے حیائی پر پڑتی ہیں اسلام کی جگہ کفر پر پڑتی ہیں غیرت کی جگہ بے غیر تی پر پڑتی ہیں دوستو! جو سرزمین آزاد اور غیرت والوں کی ہوتی ہے میں وہاں آب وتاب سے روشنی بھیجتا ہوں ۔ جو قوم میرے نکلنے سے پہلے جاگ رہی ہوتی ہے میں اس کو شاباش دیتا ہوں جو قطعہ زمین اللہ کے نام گونج رہی ہوتی ہے میں اس کو عظمت کی بشارت دیتا ہوں ۔ جس زمین کی سرحدوں میں شیر دل جوان اس کی حفاظت میں جاگ رہے ہوتے ہیں ۔ میں اس کو روشن مستقبل کامژدہ سناتا ہوں جس ملک کی فضائیں اس کے شاہینوں کی تصرف میں ہوتی ہیں ۔میں اس کی فضاؤ ں میں خوشبو بکھر دیتا ہوں جس سرزمین میں صبح 4 بجے پھوٹتی ہے اس کو پہلے منور کرتاہوں ۔دوستو! یادرکھوتم ایک آزاد، خداداد اور خوبصورت سر زمین کے مالک ہو ۔تمہارے شہر تمہارے دیہات ،تمہارے پہاڑ ،تمہارے دریا سمندر ،تمہاری سڑکیں ،تمہارے کھیت کھلیاں آزدی کی خوشبو سے معطر ہیں۔ یہ جفاکششوں،مخلصوں خداوالوں، شاہینوں اور شیروں کی زمین ہے۔اس کی قدر کرو۔ دیکھو میں اپنے نکلنے میں ایک سکنڈ بھی ضائع نہیں کرتا۔وقت پہ نکلتا ہوں اورغروبھی وقت مقرہ کر ہوتا ہوں ۔تم بھی میرے ساتھ سفر کرو۔ وقت ضائع نہ کرو۔ آج اڑساتھ بار بعد تمہارے سرزمین میں طلوع ہورہا ہوں شکر کرو کہ میں آزدی کا سور ج ہوں میری کرنیں ایک آزاد سر زمین پر پڑتی ہے ۔دوستو !عہد کر لو کہ تم آزاد رہو گے تم جاگتے رہوگے اپنی آزادی پر آنچ نہیں آنے دو گے ۔یہ آزادی زندگی ہے اورغلامی موت ہے ۔تم ابھی زندہ ہو غلام کی کوئی صبح نہیں ہوتی نہ کوئی شام ہوتی ہے ۔وہ وقت کی زنجیروں میں قید ہوتی ہے۔اس کے کام کا انجام کوئی نہیں اس کی محبت کانام کوئی نہیں ۔وہ دنیا کی کسی چیز کو اپنا نہیں کہہ سکتا دیکھو تم سب کو اپنا کہہ سکتے ہو صدر وزیر اعظم تمہارے ہیں فوج پولیس تمہاری ہے شہر دیہات تمہارے ہیں تم ہر چیز کو اپنا کہہ سکتے ہو شکر کرو کہ یہ پاک سرزمین تمہاری ہے اور اس میں موجود سب کچھ تمہارا ہے دوستو مجھے فخر ہے کہ میں ایک آزاد سرزمین پر طلوع ہو گیا ہوں تمہیں یہ آزدی مبارک ہو۔ سورج واپس اپنی اصلی جگہ پہ چلا گیا مگر سب کی آنکھوں میں تشکر کے آنسو تھے یکا یک فضا گونج اُٹھا اسلام زندہ باد پاکستان پائیندہ باد۔
آزادی آزادی آزادی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں