116

صوبائی حکومت کسی پر سختی نہیں کرنا چاہتی اسلئے متعلقہ اداروں اور شعبوں کو اپنا کردارذمہ داری کے ساتھ ادا کرنا چاہیئے،وزیراعلی خیبرپختونخوا پرویز خٹک

پشاور(نمائندہ ڈیلی چترال)وزیراعلی خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے قدرتی ماحول ، انسانی صحت اور نکاسی آب کے نظام کیلئے خطرے کا باعث بننے والے پلاسٹک کے شاپنگ بیگز کا محفوظ متبادل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاہے کہ صوبائی حکومت پولیتھین بیگز پر پابندی کے معاملے پر بہت سنجیدہ ہے اور اس مسئلے کا حل ہر صورت میں نکالا جائے گا تاہم اُنہوں نے یقین دلایا کہ اس بارے میں کسی بھی حکمت عملی پر عمل درآمد کے لئے تمام متعلقہ اداروں اور کاروباری شعبوں کو اعتماد میں لیا جائے گا اور ان کے مفادات کا خیال رکھا جائے گا یہ یقین دہانی اُنہوں نے آج سول سیکرٹریٹ میں پولیتھین بیگز کے استعمال سے پیدا ہونے والے خطرات کو ختم کرنے سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کر تے ہوئے کرائی اجلاس میں سنیٹر محسن عزیز، رکن قومی اسمبلی ساجدہ ذوالفقار، سینئر وزیر بلدیات عنایت اﷲ، چیف سیکرٹری امجد علی خان، ماحولیات و بلدیات کے سیکرٹریوں، صوبائی ماحولیاتی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ، کمشنر و ڈپٹی کمشنر پشاور، ڈبلیو ایس ایس پی کے سربراہ ، خیبرپختونخوا چیمبر آف کامرس اور مرکزی تنظیم تاجران کے صدور اور صنعتکاروں و ماحولیاتی ماہرین نے شرکت کی وزیراعلیٰ نے اس معاملے پر متعلقہ سر کاری اداروں اور کاروباری شعبوں و ماحولیاتی ماہرین کی آراء معلوم کرنے کے بعد صوبائی سیکرٹری ماحولیات نذر حسین شاہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کردی جو پلاسٹک کے لفافوں کی فروخت اور استعمال روکنے اور ان کا متبادل تجویز کرنے کیلئے جامع، مربوط اور قابل عمل رپورٹ دس روز کے اندر پیش کرے گی کمیٹی کے ارکان میں سینٹر محسن عزیز، لوکل گورنمنٹ و محکمہ صنعت کے سیکرٹری، ڈائریکٹر جنرل انوائرنمینٹل پروٹیکشن ایجنسی، ڈبلیو ایس ایس پی کے چیف ایگزیکٹیو، کمشنرپشاور اور سمیڈا ،چیمبر آف کامرس، مرکزی تنظیم تاجران اور پلاسٹک شاپنگ بیگ بنانے والے صنعتکاروں کے نمائندے شامل ہوں گے اجلاس کے دوران مضر صحت میٹریل سے تیار کئے جانے والے کالے رنگ کے شاپنگ بیگز پر پابندی پرتمام سرکاری اداروں اور متعلقہ تجارتی شعبوں میں مکمل اتفاق رائے پایا گیا اور شاپنگ بیگز سے متعلق کسی حتمی فیصلے سے قبل متعلقہ اداروں کی رائے لینے کے عمل کو سراہا گیا شاپنگ بیگز کے استعمال سے پیدا ہونے والے مسائل کے قابل قبول اور پائیدار حل پرزور دیتے ہوئے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے کہاکہ عام لوگوں کو پلاسٹک شاپنگ بیگز کے مضر اثرات سے موثر طور پر آگاہ کرنے سے بھی یہ مسئلہ کافی حد تک حل ہو سکتا ہے اُنہوں نے محکمہ بلدیات اور ڈبلیو ایس ایس پی کو ہدایت کی کہ وہ استعمال شدہ پلاسٹک کے لفافے اور دوسرا کوڑا کرکٹ اکٹھا کرکے محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کے اقدامات کریں اُنہوں نے خصوصاً دیہی علاقوں کو کوڑا کرکٹ اور گندگی سے پاک کرنے کیلئے صوبائی حکومت کی حکمت عملی واضح کرتے ہوئے بتایا کہ کوڑا کرکٹ اکٹھا کرنا اور اسے ٹھکانے لگانا بالترتیب نو منتخب ولیج اور تحصیل کونسلوں کی بنیادی اور اولین ذمہ داری قرار دی گئی ہے اُنہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس سے قبل دیہی علاقوں کی صفائی پر کسی بھی حکومت نے توجہ نہیں دی پلاسٹ شاپنگ بیگز کی تیاری، فروخت اور استعمال مرحلہ وار ختم کرنے کیلئے پشاور میں پائلٹ پراجیکٹ شروع کرنے کی ایک تجویز کو مستردکرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ اس بارے میں جو بھی حتمی حکمت عملی ہو گی اسے پورے صوبے میں یکساں طور پر اور بیک وقت لاگو کیا جائے گا کیونکہ یہ صرف صوبائی دارالحکومت کا نہیں بلکہ پورے صوبے کا مسئلہ ہے اُنہوں نے تمام متعلقہ اداروں اور صنعتی و تجارتی شعبوں سے کہا کہ وہ شاپنگ بیگز کی متبادل اور محفوظ سہولت تلاش کرنے کیلئے ایسا منصوبہ تیار کریں جس سے نہ صرف مضر قسم کے شاپنگ بیگز کا استعمال روکا جا سکے بلکہ اس کے تیار کنندگان اور تاجروں کے مفادات کا بھی تحفظ ہو اُنہوں نے صوبہ بھر میں نکاسی آب اور صفائی کے نظام کو ترقی یافتہ ممالک کے برابر لانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ہدایت کی کہ عام لوگوں کو اس جانب راغب کیا جائے کہ وہ اپنے اردگرد کسی کو شاپنگ بیگ پھینکنے کی اجازت نہ دیں اور اس کے استعمال کی حوصلہ شکنی بھی کریں وزیراعلیٰ نے اس موقع پر پشاور کی سڑکوں اور گلیوں وغیرہ میں صفائی کی صورتحال پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اگر چہ اس بارے میں اُٹھائے گئے اقدامات سے کافی بہتری آئی ہے لیکن ان اقدامات کے سو فیصد نتائج حاصل نہیں ہوئے وزیراعلیٰ نے اس امر پر زور دیا کہ ذمہ دار افسران اس بارے میں اپنی ذمہ داریاں دوسروں کو منتقل کرنے کے منفی رجحان سے گریز کریں پرویز خٹک نے کہاکہ پشاور کی شاہراہوں اور گلی کوچوں میں شہری سہولتوں کو عالمی معیار کے مطابق بنانے اور قدیم پشاور کی عظمت رفتہ بحال کرنے کیلئے ضروری ہدایات اور بھر پور مالی وسائل فراہم کئے گئے ہیں اُنہوں نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی اور صفائی کی غیر اطمینان بخش صورتحال سنگین مسائل ہیں اور ان کے حل کیلئے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے اُنہوں نے کہاکہ ان کوششوں میں کامیابی کیلئے صوبائی حکومت کسی پر سختی نہیں کرنا چاہتی اسلئے متعلقہ اداروں اور شعبوں کو اپنا کردارذمہ داری کے ساتھ ادا کرنا چاہیئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں