122

عالمی اداروں نے رابطے کئے ہیں تاہم متاثرین کوفوری ریلیف اوربحالی کی اشدضرورت ہے ۔عنایت اللہ خان

پشاور(نمائندہ ڈیلی چترال)خیبرپختونخوا حکومت نے ملاکنڈ ڈویژن میں زلزلہ کی تباہ کاریوں کے پیش نظر عالمی برادری سے بھی امداد کی اپیل کردی ہے اور واضح کیا ہے کہ دیربالا اور چترال سمیت بالائی علاقوں میں شدید سردی اور برفباری کے پیش نظربے گھر خاندانوں کو محفوظ پناہ گاہوں ، غذائی اشیاء اور طبی امداد کی ہنگامی بنیادوں پر فراہمی ناگزیر ہوگئی ہے جس میں صوبائی حکومت کو عالمی برادری اور بین الاقوامی این جی اوز کی مدد بھی درکار ہے تاہم یہ امداد محض پیشکشوں، وعدوں اور اور یقین دہانیوں کی بجائے عملی صورت میں اور فوری بنیادوں پر ہوجانی چاہئے صوبائی سینئر وزیر عنایت اللہ خان نے دیر بالا میں مسلسل تیسرے روز زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران یہ باضابطہ اپیل کرتے ہوئے بتایا کہ اگرچہ صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے زلزلہ کے فوری بعد ریسکیو اور ریلیف کا عمل شروع کیا اور مشترکہ امدادی پیکیج کا اعلان بھی کیا گیا جبکہ زلزلہ زمین کی زیادہ گہرائی میں ہونے کے سبب پہلے کی نسبت کم نقصانات کا ابتدائی اندازہ لگایا گیا مگر اب یہ حقیقت بھی سامنے آگئی ہے کہ حالیہ زلزلہ دیر، شانگلہ اور چترال سمیت پورے ملاکنڈ ڈویژن میں 2005ء ؁ کے زلزلے سے بھی زیادہ تباہ کن ثابت ہوا ہے جہاں سینکڑوں انسانی اموات اور ہزاروں زخمی ہونے کے علاوہ لاتعداد خاندان بے گھر ہو کر سخت سردی اور برفباری میں کھلے آسمان تلے شب و روز گزارنے پر مجبور ہیں انہوں نے بتایا کہ صرف دیر اپر میں زلزلہ سے ابتدائی سروے کے مطابق 50سکول مکمل تباہ ہو گئے، 127سکولوں کو جزوی نقصان پہنچا، دو ہزار سے زائد گھر مکمل طور پر منہدم ہو گئے اور سینکڑوں کی تعداد میں مال مویشی تلف ہوئے جبکہ بی ایچ یوز، ڈسپنسریوں اور طبی سہولیات کا بھی ستیاناس ہوگیا ہے شدید غربت کے باعث زلزلہ متاثرین کو حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا اور وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری بھی مشنری جذبے سے انکی جلد از جلد مدد میں ہماری بھرپور مدد کرے عنایت اللہ نے جو جماعت اسلامی کے صوبائی پارلیمانی لیڈربھی ہیں اس بات کو خوش آئند قرار دیا کہ انکی جماعت اور الخدمت فاؤنڈیشن کے علاوہ بعض ملکی و مقامی این جی اوز بھی ریلیف کے عمل میں شریک ہو گئی ہیں تاہم زیادہ نقصانات اور متاثرین کی شدید ضروریات کے مقابلے میں حکومت اور انکی مدد آٹے میں نمک کے برابر بن جاتی ہے انہوں نے کہا کہ اگرچہ بعض عالمی اداروں نے زلزلہ زدگان کی مدد کیلئے صوبائی حکومت اور خود ان سے بھی رابطے کئے ہیں تاہم متاثرین کو فوری ریلیف اور بحالی کی اشد ضرورت ہے ورنہ شدید سردی سے بھوک، بیماریوں اور اموات میں اضافہ ہو سکتا ہے اور المیے بھی جنم لے سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ ضلع دیر بالا میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بھی صورتحال کافی گھمبیر ہو گئی ہے نقصانات ہمارے اندازے سے بھی زیادہ ہیں یہاں سینکڑوں بے گھر خاندانوں کیلئے عارضی پناہ گاہوں، خوراک، ادویات اور دیگر سہولیات کا ہنگامی بنیادوں پر بندوبست لازمی ہے ان تمام ناگزیر ضروریات کی تکمیل اکیلے ہماری حکومت کے بس میں نہیں اور ہمیں عالمی تعاون بھی درکار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں