84

لواری ٹنل کے موجودہ عوام دشمن شیڈول کو تبدیل کرادیں بصورت دیگر چترال کے عوام اس شیڈول کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔پریس کانفرنس

چترال (نمائندڈیلی چترال ) ویلج کونسل ایون ون کے نائب ناظم فضل الرحمن نے موسم سرما میں لواری ٹنل کو پبلک کے لئے کھولنے کی شیڈول کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم ، وزیر مواصلات اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخو اسے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اتوار اور جمعرات کے ایام کو شیڈول میں رکھا جائے جس سے سرکاری امور سے متعلق پشاور اور ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز سوات جانے والوں کے کام مکمل ہوں گے۔ اتوار کے روز یونین کونسل ایون کے نائب ناظم ایون ٹو کے نائب ناظم اکرام اللہ جان، ممبر اسداللہ جان اور سوشل ورکر محمد رحمن کی معیت میں چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ لواری ٹاپ روڈ کی بندش کے بعد چترال کا رابطہ ملک کے دیگر حصوں سے کٹ جاتا ہے اور لواری ٹنل کو ہفتے میں دو دن کے لئے کھول دیا جاتا ہے اور اس سال عقل سے عاری منتظمین نے ٹنل کو کھولنے کے لئے جمعہ اور منگل کے دن کو مقرر کیا ہے جس سے مسائل بڑھنے کی بجائے اور الجھ جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ جمعہ اور منگل کے درمیان صرف ایک ورکنگ ڈے ہے اور چترال سے سرکاری کام کے سلسلے میں پشاور ،سوات یا اسلام آباد جانے والے کو مجبوراً ایک ہفتے تک وہاں رک جان پڑے گا جس سے ان کی جیب سے مجموعی طور پر پچیس ہزار روپے سے ذیادہ خرچ ہوں گے ۔ انہوں نے کہاکہ اسلامی شعائر میں جمعہ المبارک کو خصوصی اہمیت حاصل ہے اور اس دن کو شیڈول میں شامل کرنے سے سفر کرنے والوں کو نماز جمعہ سے بھی محروم ہونا پڑے گا۔ انہوں نے اتوار اور جمعرات کے ایام کی مجوزہ شیڈول کی افادیت بیان کرتے ہوئے کہاکہ اس کو لاگو کرنے کے نتیجے میں سرکاری دفاتر میں چار ورکنگ ڈے دستیاب ہوں گے اور ایک دن بھی مزید ٹھہر نے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ فضل الرحمن نے ڈی۔ سی چترال سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس مسئلے کو متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھاکر موجودہ عوام دشمن شیڈول کو تبدیل کرادیں بصورت دیگر چترال کے عوام اس شیڈول کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے ۔ انہوں نے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے بھی اپیل کی ہے کہ اس شیڈول کے بارے میں آز خود نوٹس لے کر چترالی عوام کے دکھوں کا مداوا کریں۔ اس موقع پر انہوں نے انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے وکیل نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہاکہ اپنے آپ کو ہیومن رائٹس کا چیمپین کہلوانے والے اس نام نہاد لیڈر نے اس عوامی مسئلے پر ان کا ساتھ دینے سے اس بنا پر انکار کردیا کہ وہ مرکز میں حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ سے تعلق رکھتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں