69

لمحہ فکریہ ۔۔۔۔۔ عنایت اللہ اسیر

ایئرپورٹ روڈپر حادثے کا شکار ہونے والوں کے ورثاء کے لیئے معقول امدادی پیکج کا اعلان کیا جائے کیاہم پاکستان کے دیگر اضلاع کی طرح برابر کے شہری نہیں ؟
مرکزی حکومت اور صوبائی حکومت کے زمہ دران کی طرف سے چترال جیب کے حادثے میں فوت شدہ گان کے لیئے افسوس کے دو بول بھی نہ بولنانہایت افسوس اور مایوسی کا مقام ۔خاص کر (DDMA) کے ڈھول کا پول بھی کھل گیا۔کہ وہ کس حد تک تیار رہتے ہیں۔اگر ایک ربڑ کی کشتی بھی چترال کے DMA کے پاس تیار مناسب جگہ پر موجود ہوتا تو کئی انسانی کے بچانے کا زریعہ ہوتا کسی ایک چھوٹی سی کشتی پر موٹر لنج کا بندوبست آج کے حادثاتی دور میں نہایت ضروری ہوگیا ہے۔ انتہائی مایوسی اور افسوس کا مقام ہے کہ 1969سے چترال کے دو اضلاع ضلع مستوج اور ضلع چترال کو ملا کر ایک ضلع کی حیثیت دیدی گی مگر تمام قوانین اور فرائض کو ضلع چترال کے پرامن باشندوں پر نافذ کرنے کے باوجود چترال کے پر امن باشندوں کو ان کے جائز قانونی اخلاقی اور مروجہ شہرویوں کے حقوق کے حقوق نہیں دیئے گئے ۔یہاں پر مزدوروں کو ان کی حادثاتی موت پر کوئی معاوضہ نہیں ملتا۔ یہاں کے بچوں کو ہتھکڑیوں میں عادی مجرموں کے ساتھ ایک الگ بارک میں رکھا جاتا ہے مگرجیل کی چاردیواری میں رات دن یہ بچے ان عادی مجرموں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔اسی طرح چترال کے پاک وطن سے محبت رکھنے والے شہریو ں کو کسی بھی حادثاتی واقع کے نتیجے میں کوئی اشک شوئی کے لیئے امدادی رقوم کا اعلان بھی نہیں کیا جاتاحالانکہ پاک وطن کے دوسرے شہروں میں حادثے کا شکار ہونے والوں کے پسماندگان سے بھرپور صوبائی اور مرکزی حکو مت مالی امداد کا اعلان کر تی ہے۔جو ا ن خاندانوں کو کچھ مدت تک بحال ہونے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے۔ یقیناًامدادی رقم ان حادثے کے شکار ہونے والوں کی جان کی قیمت تو نہیں کہی جا سکتی مگر ہر فلاحی ر یاست ایسے درد ناک حادثوں کے موقع پر اپنے شہریوں کی مالی مدد کرکے ان کی بحالی میں مدد کرتی ہے۔
ابھی 2دسمبر کو صبح 10بجے گرم چشمہ سے چترال آنے والی جیپ کو چترال ٹاؤن میں شہر کے قریب حادثہ پیش آیا۔اور ایک ہی خاندان کے 8 افراد بھی اس حادثے میں موت کا شکار ہوئے۔اور دیگر دو افراد بھی اس حادثے کا شکار ہوئے۔صوبائی تحریک انصاف کی حکومت اور مرکزی نواز حکومت کی طرف سے ان فوت شدہ گان سے ہمدردی کے بول ریڈیو TVاوراخبارات میں نہیں آئی جیسے یہ کسی غیر ملک کے شہری ہوں۔ نہایت عجیب اور حیران کن بات یہ ہے کہ جب کبھی ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔چترال کوA FAT اورPATA میں شامل کرکے اس کے شہریوں کو انکے شہری حقوق سے محروم کیا جاتا ہے۔1969 سے2015 کے46 سال تک چترال کے باشندوں کو حقیقی شہری حقوق نہیں دیئے گئے۔حکومت اس حادثے کے متاثرین کے لئے امدادی رقم کااعلان کرکے گزشتہ محرومیوں کا ازالہ کر سکتا ہے۔مرکزی اور صوبائی نمائندگان اسمبلیوں میں اس محرومی کی آواز موثر طریقے سے اٹھانے کے زمہ دار ہیں۔قوم ضلعی حکومت سے بھی اس سلسلے میں آواز اٹھانے کی امید رکھتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں