تازہ ترین
چترال پریس کلب میں شدید عوامی شکایات کی بنا پر پروگرام( موخامُخ )کا انعقاد،صارفین نے پیسکو کے خلاف شکایات کے انبار لگا دیے


بنا پر 49فیصد بجلی چوری ہوتی ہے ۔ گو کہ یہاں کُنڈا سسٹم نہیں ہے ۔ مگر بجلی چوری ہو رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 600روپے سے کم اگر بجلی کا بل آتا ہے ۔ تو اس کا مطلب یہ ہے ۔ کہ میٹر خراب ہے ۔ جب کہ بجلی صارف کو مل رہی ہے ۔ اس لئے صارفین کو چاہیے ۔ کہ تین مہینے تک بل نہ آنے ، اور چھ سو روپے سے کم بل آنے پر وہ پیسکو آفس کو اطلاع کریں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ پیسکو کے پاس میٹر ریڈرز کی کمی ہے ۔ اور اس حوالے سے بالائی حکام سے بار بار درخواست کی جارہی ہے ۔ جنہوں نے یقین دلایا ہے ۔ کہ سب سے پہلے چترال کی آسامیاں پُر کی جائیں گی ۔ انہوں نے کہا ۔ میں ذاتی طور پر صارفین کو ریلیف اور سہولت دینے کے حق میں ہوں کیونکہ مجھے بھی خدا کے سامنے جواب دینا ہے ۔ اور میں کوئی بھی غلط کام کرکے اپنی عاقبت خراب نہیں کرنا چاہتا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ بعض صارفین سمجھانے کے باوجود ہم سے اُلجھ جاتے ہیں ۔ لیکن ہر کام میرے اختیار میں نہیں ہوتا ۔ اس کیلئے دیگر بالائی آفیسران کے پاس جانے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا FPAپورے صوبے میں لاگو ہے ۔ جسے میں ختم نہیں کر سکتا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال کے 16ہزار
ڈیفالٹرز میں سرکاری ادارے بھی شامل ہیں ۔ سرکاری ڈیفالٹر اداروں کی بجلی کاٹ دینے کا اختیار ڈپٹی کمشنر چترال کے پاس ہے ۔ تاہم نجی لائن پیسکو خود کاٹنے کا ختیار رکھتی ہے ۔ ایس ڈی او سمیع اللہ نے کہا ۔ کہ ہمارے پاس بجلی کی کوئی کمی نہیں ہے ۔ لیکن دن بدن بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے ٹرانسفارمر اورلوڈ نگ برداشت نہیں کر پاتے ۔ اور خراب ہو جاتے ہیں ۔ لیکن بد قسمتی سے چترال میں پیسکو ورکشاپ نہ ہونے کے باعث اُن کی چترال سے نوشہرہ ورکشاپ تک لے جانے اور لانے کیلئے کافی وقت درکار ہوتا ہے ۔ اور بعض اوقات فنڈ کا بھی مسئلہ ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ صارفین سرکاری طریقہ کی بجائے اپنی طرف سے چندہ کشی کرکے ٹرانسفارمر نوشہرہ بھیجنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔ اور یہ سب ہمارے نظام کی خرابی کے باعث ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال میں ورکشاپ کے قیام کیلئے منسٹر
واٹر اینڈ پاور سے اپیل کی گئی ہے ۔ اور انہوں نے اس کی تعمیر کی یقین دھانی کی ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ جو لوگ انفرادی طور پر میٹر لگانے کی استطاعت نہیں رکھتے ، ایسے غریب لوگوں کے تین گھرانے مشترکہ طور پر میٹر حاصل کر سکتے ہیں ۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی مولانا جمشید احمد ، رہنما مسلم لیگ ن کوثر ایدوکیٹ ، رہنما پی پی پی انجینئر فضل ربی جان ، رہنما جے یو آئی قاری جمال عبد الناصر ، صدر تجار یونین شبیر احمد ، کونسلر رستم نیاز ودیگر نے خطاب کیا ۔اور صدر چترال پریس کلب ظہیر الدین عزیز نے پروگرام میں شرکت کرنے پر مہمانان اورشرکاء محفل کا شکریہ اداکرتے ہوئے آئیندہ بھی اسی طرح کے عوامی مفاد میں پروگرامات منعقد کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔