چترال سے دودھ دینے والی گائیں آؤٹ ڈسٹرکٹ لے جانے پر پابندی لگائی جائے ، سابق ممبر ڈسٹرکٹ کونسل و ناظم رحمت آلہی

چترال (محکم الدین ایونی ) سابق ممبر ڈسٹرکٹ کونسل چترال و ناظم یو سی آیون رحمت آلہی نے چترال سے دودھ دینے والی گائیں ضلع سے باہرلے جانے کیلئے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے جاری ہونے والی این او سی فوری طور پر بند کرنے کا پر زور مطالبہ کیا ہے ۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ۔ کہ چترال میں دودھ کی شدید قلت ہے ، اور بڑی مقدار میں مقامی سطح پر تازہ دودھ پیدا ہونے کے باوجود سالانہ کروڑوں روپے مالیت کے خشک اور پیک مائع دودھ لوگ بازار سے خریدنے پر مجبور ہیں ، ایسے میں غیر مقامی کاروباری لوگ چترال سے دودھ دینے والی گائیں خرید کر ضلع سے باہر منتقل کر رہے ہیں ۔ جس سے ایک طرف چترال میں تازہ قدرتی دودھ کی مزید قلت پیدا ہورہی ہے ۔ اور دوسری طرف پالنے کیلئے چترال کے ضرورت مند افراد کیلئے گائے خریدنا ناممکن ہو رہا ہے ،
انہوں نے کہا ۔ کہ چترال انتظا میہ سابقہ اوقات میں مال مویشیوں خصوصا دودھ دینے والی گائے ضلع سے باہر لے جانے پر پابندی لگا تی رہی ہے ۔ اب کئی عرصے سے کھلی چھٹی دینے کی وجہ سے سینکڑوں غیر مقامی تاجر مستقل بنیادوں پر دودھ دینے والی گائیں چن چن کر خریدتے ہیں ، اور انہیں لواری ٹنل کے راستے ضلع سے باہر لے جارہے ہیں ۔
رحمت الہی نے کہا ۔ چترال سے باہر وسیع زمینات ، سبزہ اور جنگلات ہیں ، وہاں تازہ دودھ کا حصول لوگوں کیلئے کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے ۔ کیونکہ ان علاقوں میں گائے بھینس سال بھر سبز چارہ استعمال کرتے ہیں ، اور بڑی مقدار میں دودھ دیتے ہیں ، جبکہ چترال میں سال بھر سبز چارہ نہ ہونے کے باعث دودھ کی پیداوار بہت کم ہے ۔ اور جہاں تھوڑی بہت دودھ پیدا ہوتی ہے ۔ غیر مقامی کاروباری لوگ معلومات حاصل کرکے ایسی دودھ دینے والی گائیں کسی بھی قیمت پر خرید لیتے ہیں ، اور ضلع سے باہر لے جاتے ہیں ، جس سے چترال میں دن بدن تازہ دودھ کی قلت پیدا ہورہی ہے ۔
انہوں نے پر زور مطالبہ کیا ۔ کہ فوری طور پر دفعہ 144 لگا کر مقامی گائیں ضلع سے باہر منتقل کرنے پر پابندی لگائی جائے ۔ اور ضلعی انتظامیہ ایسے غیر مقامی حیوانات کے کاروباری افرادکو این او سی جاری کرنے پر مکمل پابندی عائد کرے ۔



