انفراسٹرکچرز کی بحالی کے لئے 35کروڑ اور چترال شہر کی بیوٹی فیکیشن کی مد میں 37کروڑ روپے کی خطیر فنڈز سمیت اے ڈی پی اور نان اے ڈی پی منصوبہ جات میں اخراجات کی ایک ایک پائی کا حساب دیا جائے/وجیہ الدین

چترال (نمائندہ ) جماعت اسلامی لویر چترال نے نماز جمعہ کے بعد ضلع بھر میں مختلف مقامات پر ویلج کونسل کی سطح پر ترقیاتی فنڈز میں مبینہ طو ر پر بڑے پیمانے پر کرپشن کے خلاف جلوس نکالے گئے اور جلسے منعقد کرکے حکومت کو ڈیڈ لائن دی گئی کہ سیلاب کے نتیجے میں تباہ شدہ انفراسٹرکچرز کی بحالی کے لئے 35کروڑ اور چترال شہر کی بیوٹی فیکیشن کی مد میں 37کروڑ روپے کی خطیر فنڈز سمیت اے ڈی پی اور نان اے ڈی پی منصوبہ جات میں اخراجات کی ایک ایک پائی کا حساب دیا جائے۔ مرکز اسلامی دنین میں احتجاجی جلوس اور جلسے کی قیادت جماعت اسلامی لویر چترال کے امیر وجیہ الدین نے کی جبکہ ژانگ بازار، چیوڈوک، دنین، سنگور، جغور، مستجپاندہ، شیاقوٹک، بکرآباد، بروز، گہریت، دروش بازار، شیشی کوہ، جنجریت کلکٹک، عشریت، ارندو، دمیل، کوغوزی، موری لشٹ، برنس، ایون، رمبور اور بریرسمیت درجنوں مقامات میں ترقیاتی فنڈز میں کرپشن کے خلاف جلوس اور جلسے منعقد ہوئے جن میں مقررین نے کہاکہ جماعت اسلامی ان حالات میں خاموش تماشائی بن کر رہنے کی بجائے میدان میں اترنے اور اس پسماندہ علاقے میں ترقیاتی فنڈز چوری کرنے والوں کے مکروہ چہروں کو عوام کے سامنے بے نقاب کرنے کا تہیہ کررکھا ہے۔ مقررین نے کہاکہ جماعت اسلامی کی طرف سے مہم برپا کرنے کے بعد سے چوروں کی صفوں میں کھلبلی مچ گئی ہے اور کئی مقامات پر مساجد کے غبن کردہ فنڈز سے کام شروع کرانے کا سلسلہ جاری کیا گیا ہے لیکن ڈیزاسٹراور بیوٹی فیکیشن کے فنڈز کا حساب دینا ابھی باقی ہے جسے حکمران جماعت کے رہنماؤں نے افسران کے ساتھ مل کر شیر مادر کی طرح ہضم کرنے میں مصروف ہیں لیکن انہیں معلوم نہیں کہ جماعت اسلامی کی موجودگی میں یہ ممکن نہیں اور کوئی مائی کا لعل آسانی سے ہضم نہیں کرسکے گا۔ ان تمام مقامات میں متقفہ قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ کرپشن کی عوامی شکایت پر ضلعی انتطامیہ کی انکوائری رپورٹ کو فوری طور پر پبلک کیا جائے اور خرد برد کردہ رقوم کی ریکوری اور اس میں ملوث سرکاری اہلکاروں کوملازمت سے برخاست کیا جائے۔



