152

چترال میں گذشتہ تین روز سے مسلادھار بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا سلسلہ جاری ہے ۔ گہرے بادلوں نے پوری چترال کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے

چترال ( محکم الدین محکم ) چترال میں گذشتہ تین روز سے مسلادھار بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا سلسلہ جاری ہے ۔ گہرے بادلوں نے پوری چترال کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے ۔ اور سردی ایک مرتبہ پھر لوٹ آئی ہے ۔ کالاش ویلیز ،شاہ سلیم اور لواری ٹاپ پر برفباری ہوئی ہے ۔ لواری ٹاپ برفباری کی وجہ سے بدستور بند ہے جبکہ اتوار کی رات نیشنل گرڈ کی بجلی لواری ٹاپ پر پھر منقطع ہوچکی ہے ۔ اور چترال شہر حسب معمول اندھیروں میں ڈوب گیا ہے ۔ جس کی وجہ سے بارش کے دنوں میں بجلی نہ ہونے سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ محکمہ واپڈا چترال کے ایس ڈی او غلام رشیدنے ایکسپریس کو بتایا ۔ کہ بجلی کی بحالی کیلئے سٹاف زیارت کے مقام پر پہنچ چکے ہیں ۔ لیکن لواری ٹاپ پر برفباری اور خراب موسم کے باعث فالٹ تک پہنچنا خطرے سے خالی نہیں ۔ اس لئے موسم کے بہتر ہوتے ہی گرڈ کی بحالی ممکن ہو سکے گی ۔ شدید بارشوں سے زلزلے میں متاثرہ مکانات اور دیواروں کو مزید نقصان پہنچا ہے ۔ اور کئی مقامات سے جزوی نقصانات کی اطلا عات موصول ہوئی ہیں ۔ تاہم کسی قسم کی جانی نقصان نہیں ہوئی ۔ اسی طرح کالاش ویلیز کی سڑکیں پہاڑی تودے گرنے سے عارضی طور پر وقفے وقفے سے بند ہو تے رہے۔ اور ڈرائیوروں و مسافروں نے اپنی مدد آپکے تحت بمبوریت اور رمبور روڈ پر گرنے والے پتھر ہٹاکر اپناسفر مشکل سے جاری رکھا ، لیکن زیادہ تر مسافر انتہائی خراب راستے اور اوپر سے آنیوالے پہاڑی پتھروں سے جانی نقصان کے خطرے کے پیش نظر سفر سے کتراتے ہیں ۔ بارش کی وجہ سے چترال میں ایک مہینے پہلے آنیوالے بہار کے حسن میں اضافہ ہوا ہے ۔ اورفصلوں و پودوں میں زندگی کی نئی روح پھونک دی ہے ۔ پانی کی قلت کا شکار علاقے کے لوگوں نے بارش پر انتہائی خوشی کا اظہار کیا ہے ۔ اور گندم کی فصل کو کھاد دینے کا عمل شروع کیا ہے ۔ ایک کسان منیر احمدنے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ۔ کہ زمین انتہائی خشک ہو چکی تھی ۔ اگر مزید ایک ہفتے تک بارش نہ ہوتی تو فصلوں کے تباہ ہونے میں کوئی تردد نہیں تھا ۔ لیکن اللہ پاک نے رحم کیا ۔ اور باران رحمت سے نوازا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ موسمیاتی حدت کا یہ سلسلہ جاری رہا اور اوپر سے بارشیں کم ہوئیں ۔ تو چترال کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا ۔ بارشوں کی وجہ سے ندی نالوں کے پانی میں اضافہ ہوا ہے ۔ لیکن گذشتہ سیلاب سے چترال کے تمام علاقوں کی آبپاشی نہریں تاحال صحیح معنوں میں بحال نہیں کی جا سکی ہیں ۔ اس لئے پانی والے علاقوں میں بھی لوگوں کو فصلوں کو پانی دینے کا مسئلہ درپیش ہے ۔ جبکہ حکومت کی طرف سے ان متاثرہ نہروں کی بحالی کیلئے ابھی تک کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ۔ اور صوبائی حکومت تو ترقیاتی کاموں کیلئے چترال کو این جی اوز کے حوالے کردیاہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں