87

ضلعی انتظامیہ چترال کی طرف سے کرونا احتیاطی تدابیر کے حوالے سے طے شدہ حکومتی فیصلوں پر سختی سے عملدر آمدکا سلسلہ جاری

چترال ( محکم الدین ) ضلعی انتظامیہ چترال کی طرف سے کرونا احتیاطی تدابیر کے حوالے سے طے شدہ حکومتی فیصلوں پر سختی سے عملدر آمدکا سلسلہ جاری ہے ۔ اور چترال بازار ، دروش بازار ، ایون بازار ، بونی بازار سمیت تمام مرکزی شہروں میں کاروباری مقامات اور دکانیں بند ہیں ۔ ایون کے وسیع بازار میں ہو کا عالم ہے ۔ اور پولیس کی مختلف موبائل ٹیمیں لاک ڈاون اور ایس او پیز پر عملدر آمد کی نگرانی کر رہے ہیں ۔ بازار کی بندش کی وجہ سے جہاں ایک طرف عوام شدید اضطراب اور پریشانی سے دوچار ہیں ۔ وہاں دوسری طرف تاجر برادری کو زبردست مالی نقصان پہنچا ہے ۔ اور عید کے موقع پر سامان فروخت کرکے جس آمدنی کی توقع کی جارہی تھی ۔ وہ حکومتی لاک ڈاون کی وجہ سے خاک میں مل گیا ہے ۔ بعض دکانداروں کی طرف سے یہ کہتے سنا گیا ۔ کہ کرونا وائرس عجیب وائرس ہے ۔ جو سبزی ، گوشت ، میڈیسن، بیکری ، گیس اور خوراک کی دکانوں میں نہیں گھستا ۔ لیکن کپڑوں کی دکانوں ، باربر شاپس، درزی کی دکانوں ، بوٹ شاپس وغیرہ میں پناہ لیتا ہے ۔ جو کہ سمجھ سے بالاتر ہے ۔ حالانکہ ان کے کاروبار کا یہی ایک سیزن ہے ۔ جو کرونا کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے ۔ ہفتہ کے روز ٹرانسپورٹ کی آمدورفت میں چھوٹ سے لوگوں نے فائدہ اٹھایا ۔ تاہم کم سوار یاں بیٹھا کر زیادہ کرایہ لینے کا عمل جاری ہے ۔ لوگوں کو دوگنا کرایہ ادا کرنا پڑرہا ہے ۔ اس طرح عوام پر ٹرانسپورٹ کا اضافی بوجھ پڑ گیا ہے ۔ گذشتہ شام ایس او پیز کی خلاف ورزی پر ایون کے کئی دکانداروں کو جرمانہ کر دیا گیا ۔ عوامی حلقوں نے کہا ہے ۔ کہ ماسک کے استعمال کو یقینی بنا کر اب بھی حکومت کی طرف سےدکانوں کو کھلے رکھنے کی اجازت دی جانی چاہیے ۔ اور عوام کی طرف سے ایس او پیز پر عمل نہ کرنےمیں لاپرواہی و غفلت کی بنیادی وجہ خود حکومتی وزرا اور حکام کی طرف سے وقتا فوقتا وہ خلاف ورزیاں ہیں ۔ جنہیں دیکھ کر عوام اس وبائی بیماری کو سنجیدہ نہیں لے رہی ۔

Print Friendly, PDF & Email