73

. چین نے ہر مشکل وقت میں ساتھ دیا، پاکستان کسی دبا وپر چین سے تعلقات تبدیل نہیں کرے گاوزیراعظم عمران خان

اسلام آباد /وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ چین نے ہر مشکل وقت میں ساتھ دیا، پاکستان کسی دبا وپر چین سے تعلقات تبدیل نہیں کرے گا، خطے میں چین اور امریکا میں اختلافات کی وجہ سے پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں، دوست ملک سے اقتصادی، تجارتی اور سیاسی تعلقات مزید مضبوط بنانا چاہتے ہیں، سی پیک کا اگلا مرحلہ پاکستان کیلئے بہت حوصلہ افزا ہے، امید ہے چینی صنعت سی پیک کے خصوصی زونز کی طرف متوجہ ہوگی، پاکستان میں لیبر سستی ہے، امید ہے چینی صنعتکار متوجہ ہوں گے۔ جمعرات کو وزیراعظم عمران خان نے چین کی حکمران کمیونسٹ پارٹی کے سو سال مکمل ہونے کی تقریبات کے حوالے سے چینی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر شی جن پنگ کو جدید دور کا عظیم سیاستدان سمجھتا ہوں ان کی کرپشن کے خلاف جنگ سے پاکستانی بہت متاثر ہیں۔ صدر شی جن پنگ کی انسداد بدعنوانی مہم بڑی کامیاب اور متاثر کن رہی ہے۔ ہم پاکستان اور چین کے درمیان قریبی تعاون کے خواہاں ہیں۔ ہمارے چین کے ساتھ تعلقات انتہائی قریبی اور گہرے ہیں۔ دونوں ممالک کے میڈیا اور ثقافتی تعلقات اتنے قریبی نہیں جتنے سیاسی تعلقات ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آج کی ملاقات کا مقصد میڈیا رابطوں کو فروغ دینا ہے۔ چین کی کمیونسٹ پارٹی کے سو سال مکمل ہونے پر مبارکباد دیتا ہوں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ چین کا بڑی تعداد میں لوگوں کو غربت سے نکالنا ایک بڑا کارنامہ ہے۔ چین نے چند سالوں میں ستر کروڑ افراد کو غربت سے نکالا۔ حال ہی میں چین نے انتہائی غربت کے خاتمے کا اعلان کیا جو غیر معمولی کامیابی ہے۔ پاکستان چین کے ساتھ سیاسی‘ اقتصادی اور تجارتی تعلقات مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سی پیک بیلٹ اینڈ روڈ ایک کلیدی منصوبہ ہے۔ پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لئے یہ منصوبہ ایک بہت بڑی امید ہے۔ ہم نے سی پیک منصوبوں کا جائزہ لینے کے لئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اگلے ہفتے گوادر کا دورہ کروں گا وہاں سی پیک منصوبوں پر کام کی رفتار کا جائزہ لوں گا اور چینی کارکنوں سے ملاقات بھی کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے آئندہ دورہ چین کا منتظر ہوں دورے میں پاکستان اور چین کے درمیان سیاسی اور اقتصادی تعلقات کے فروغ پر بات ہوگی۔ وزیراعظم نے کہا کہ سی پی سی ایک منفرد ماڈل ہے‘ مغربی جمہوریت کسی بھی معاشرے کی ترقی کا نظام ہے جس معاشرے میں حکمران طبقے کا احتساب ہو اور میرٹ ہو وہ کامیاب ہوتا ہے۔ جب وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی نظام کام نہیں کررہا تو وہ اسے تبدیل کردیتے ہیں۔ یہ بہت لچک دار نظام ہے جب وہ کوئی چیز تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو یہ نظام اس کی حمایت کرتا ہے۔ میں نے کمیونسٹ پارٹی کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا اور دیکھا کہ ان کا تربیت کا نظام کسی بھی انتخابی جمہوریت سے بہتر ہے۔ چین نے اس لئے تیزی سے ترقی کی کہ وہ اپنے نظام میں تیزی سے تبدیلی لاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے اور مغربی جمہوریتوں میں کسی نظام میں تبدیلی بہت مشکل ہے۔ کمیونسٹ پارٹی کی کامیابی طویل مد تی منصوبہ بندی ہے۔ انتخابی جمہوریت میں صرف اگلے پانچ سال کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سی پیک کا اگلا مرحلہ پاکستان کے لئے بہت حوصلہ افزا ہے سی پیک میں خصوصی اقتصادی زون ہونگے۔ امید ہے کہ چینی صنعت ان خصوصی زونز کی طرف متوجہ ہوگی پاکستان میں لیبر سستی ہے امید ہے کہ چینی صنعت کار اس طرف متوجہ ہوں گے۔ ہم چین سے زراعت کے شعبے میں تعاون کے خواہاں ہیں پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور ہم چین سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم بھی تیس سال کی جدوجہد سے اس مقام تک پہنچے۔ صدر شی اور وزیراعظم لی نے دیہات کی سطح پر جدوجہد شروع کی۔ دیہاتوں میں اس قسم کا عمل انتخابی جمہوریتوں میں بھی ناپید ہے۔ امریکی صدر کو اس قسم کی سخت جدوجہد سے نہیں گزرنا پڑتا۔ چینی قیادت جب اعلیٰ ترین مقام پر پہنچتی ہے تو انہیں بھرپور تجربہ حاصل ہوچکا ہوتا ہے۔ چینی قیادت نظام کو مکمل سمجھتی ہے۔ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ نچلی سطح پر لوگ کیسی زندگی بسر کررہے ہیں یہی وجہ ہے کہ چین غربت کے خاتمے میں کامیاب رہا۔ لیڈر کی کامیابی خود بولتی ہے اور صدر شی جن پنگ نے دنیا کو ثابت کرکے دکھایا ہے۔ چین نے ویکسین عطیہ کرکے ہماری مدد کی ہم اس پر چین کے شکر گزار ہیں۔ چین کے بعد پاکستان وہ ملک ہے جس نے بہتر انداز میں کرونا وبا کا مقابلہ کیا۔ پاکستان اور چین کے تعلقات بہت اہم ہیں چین نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ چین اور اس کے لوگوں کا پاکستانیوں کے دلوں میں خاص مقام ہے دونوں ملکوں کے تعلقات وقت کے ساتھ مضبوط ہورہے ہیں۔ خطے کی صورتحال کے حوالے سے چین اور امریکہ کے اختلافات سے پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں لیکن پاکستان چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو کبھی کم نہیں کرے گا۔ جتنا بھی دباؤ ہو ہمارے تعلقات تبدیل نہیں ہونگے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سی پیک سے پاکستان کا اقتصادی مستقبل وابستہ ہے چین سے سیاسی تعلقات مزید مضبوط ہورہے ہیں۔ جو ملک ترقی کرتا ہے اس کا کھیلوں کا شعبہ بھی ترقی کرتا ہے جب ادارے مضبوط ہوتے ہیں تو ملک کے کھیل کو بھی فروغ ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینکیانگ کے حوالے سے مغربی میڈیا اور چین کے موقف میں فرق ہے ہم چینی موقف کو تسلیم کرتے ہیں کشمیر سمیت دنیا میں ناانصافی کے متعدد واقعات ہوئے مگر کوئی توجہ نہیں دیتا۔ کشمیر کے حوالے سے مغربی میڈیا میں بہت کم کوریج ہوتی ہے جو منافقانہ رویہ ہے۔ بھارت چین کے ساتھ تجارت سے زیادہ فائدے میں رہے گا چین میں ماحولیاتی آلودگی سے متعلق آگاہی بہت زیادہ ہے۔ صدر شی اس حوالے سے بہت کام کررہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں ماحولیاتی آلودگی انسانیت کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ سی پیک کا پہلا مرحلہ توانائی اور رابطے تھا اب زرعی شعبے میں چین سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ چین اور امریکہ کی مخالفت تشویشناک ہے دنیا ایک مرتبہ پھر دو حصوں میں تقسیم ہوجائے گی۔ افغانستان کی تاریخ ہے کہ افغانوں کو کوئی تابع نہیں کرسکا امریکہ کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ انہوں نے عسکری قوت سے مسئلے کا حل نکالنے کی کوشش کی جیسے ہی امریکہ نے افغانستان سے نکلنے کا اعلان کیا طالبان نے اسے اپنی فتح قرار دیا اگر افغانستان میں خانہ جنگی ہوتی ہے تو اس سے سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہوگا۔ ہم ہر صورت میں افغانستان کا سیاسی حل چاہتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں