110

جامعہ چترال کے ملازمین تنخواہوں سے محروم ، وزیر اعلی کی منظور کے باوجود فنڈز مہیا کرنے میں فنانس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ہٹ دھرم

باوثوق ذرائع کے مطابق جامعہ چترال نے حکومت کی جانب سے فنڈز مہیا نہ کرنے کی بنا پر ایک سرکلر کے ذریعے ماہ مئی سے ملازمین کی تنخواہیں دینے سے معذوری ظاہر کردی ہے۔ یاد رہے جامعہ کا پہلا بجٹ سینیٹ نے پچھلے سال جون میں گورنر کی سربراہی میں منظور کیا تھا جس کی رو حکومت نے یونیورسٹی کو تنخواہوں اور جاتی اخراجات کی مد میں دو سو ملین کی رقم مہیا کرنا تھی۔ یونیورسٹی کے ایک عملے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حکومت کی جانب فنڈز کی عدم اجراء کی بناء پر یونیورسٹی انتظامیہ نےہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی وساطت سے وزیر اعلی سے ایک سمری کے ذریعے فنڈز کی استدعا کیا تھا۔ جسے وزیر اعلی نے مارچ کے مہینے میں منظور کیا تھا۔ تاہم فنانس ڈیپارٹمنٹ نے ابھی تک فنڈز جاری نہیں کئے بلکہ مذکورہ فنڈز کے اجراء کو کابینہ کی منظوری سے مشروط کردیا ہے۔ حالانکہ یہ حکومت کیلئے کوئی خاطر خواہ رقم بھی نہیں، یاد رہے کہ مارچ کے سے اب تک کابینہ کے کئی میٹنگ ہوچکے ہیں لیکن یہ کیس اب تک ایجنڈے میں شامل نہیں کیا جاسکا۔
دوسری طرف جامعہ چترال جیسی نئی یونیورسٹی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ کیونکہ اسے پچھلے کافی عرصے سے جاری اخراجات کی مد حکومت کی جانب سے کوئی فنڈز نہیں ملے ہیں۔ نتیجتاً پچھلے چھ مہینوں سے یونیورسٹی نے دوسرے مدات سے فنڈز تنخواہوں کی مد میں منتقل کرکے اب تک ملازمین تنخواہیں دیتی رہی ہے اور اب وہ فنڈز بھی ختم ہوگئے تو یونیورسٹی کی جانب سے مذکورہ سرکلر جاری کردیا گیا ہے۔ مزید برآں جامعہ کے ملازمین حکومت کی جانب سے پچھلی بجٹ میں تنخواہوں میں کئے گئے اضافوں سے بھی اب تک محروم ہیں۔ جبکہ یونیورسٹی پچھلے کافی عرصے سے مختلف واجبات کی ادائیگی سے بھی قاصر ہے۔

حکومت کی جانب سے فنڈز کی عدم فراہمی کی بنا پر جامعہ چترال کے کلیدی انتظامی اور تدریسی عہدے خالی پڑے ہیں جس کی بناء پر جامعہ کی مجموعی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ یاد رہے کہ یونیورسٹی آف چترال دو اضلاع پر مشتمل اس دو دراز علاقے کی واحد باقاعدہ یونیورسٹی ہے اور اس سے غفلت اس پسماندہ علاقے کے نوجوانوں کیلئے اعلی تعلیم کی واحد سہولت کی جانب حکومت کی بے اعتنائی ظاہر کررہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں