100

وزیراعظم کے دورے اورسیاست۔۔۔۔۔۔۔۔۔سیّد ظفر علی شاہ ساغرؔ

عوام کوپتہ چلناچاہئے کہ کون پاکستان کی تباہی اور کون پاکستان کی ترقی کی سیاست کرتاہے۔ ہمارے خلاف ایک پائی کرپشن بھی ثابت ہوجائے توایک منٹ میں گھرچلاجاؤں گا، ہم گیدڑبھبکیوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں ہم عوام کامینڈیٹ لے کر آئے ہیں کس منہ سے ہم سے استعفیٰ مانگا رجاہا ہے ،یہ منہ اور مسور کی دال۔جیسے جیسے وقت گزرے گاآپ کوپتالگ جائے گا۔سپریم کورٹ کافیصلہ آنے کے بعدکہ 11مئی2013میں کہیں بھی دھاندلی نہیں ہوئی یہ دوسال تک دھاندلی کارونارونے والوں کے منہ پرطمانچہ تھالیکن انہوں نے قوم سے معافی بھی نہیں مانگی۔ہیلی کاپٹر سے دیکھ رہاتھاکہ کہیں نیاخیبر پختونخوابن گیاہو لیکن مجھے کہیں نیاخیبرپختونخوانظرنہیں آیا۔ خیبرپختونخوا میں ہماری حکومت نہیں ہے مگراس کے باوجودخدمت کرنے کے لئے آئے ہیں۔ 1991میں پشاورتااسلام آبادموٹروے تعمیر کی اورگزشتہ ادوارمیں خیبرپختونخوامیں بے شمارسڑکیں بنائیں جبکہ سنہرے خواب دکھانے والے عام لوگوں سے ملنابھی گوارانہیں کرتے۔ اقتصادی راہداری کے بہت اچھے اثرات مرتب ہوں گے اورپاکستان سے2018میں لوڈشیڈنگ مکمل طورپر ختم ہوجائے گی ۔یہ کہناتھا8 مئی کو خیبر پختونخوا کے شہر بنوں میں جلسہ عام سے خطاب کے دوران وزیراعظم نوازشریف کا انہوں نے قومی خزانے کامنہ کھولتے ہوئے لکی مروت میں یونیورسٹی کے قیام،بنوں انڈسٹریل زون،کوہاٹ اور کرک کے انڈسٹریل زونز،ضلع کونسل بنوں کے لئے 20کروڑروپے کے فنڈز، پانچ یونین کونسلزکوگیس کی منظوری،بنوں ایئرپورٹ کوانٹرنیشنل ایئرپورٹ بنانے ، نورنگ تاگنڈی چوک،گنڈیلاتا کوہاٹ اوربعض دیگر علاقوں میں ڈبل روڈزکی تعمیر،ڈیرہ اسماعیل خان تک انڈس ہائی وے کی بحالی اور مرمت کاکام،بنوں میں موجود ساڑھے تین میگاواٹ کے پاورپلانٹ کوسات سے آٹھ میگاواٹ تک بڑھانے اور بنوں میں ڈیم کی تعمیر کابھی اعلان کیا۔اگرچہ میاں نوازشریف بطوروزیراعظم ملک کے مختلف علاقوں کے دورے کرتے رہے ہیں تاہم پنجاب کے علاوہ کسی دوسرے صوبے میں عوامی اجتماعات سے خطاب کیاہے نہ ہی بڑے ترقیاتی منصوبوں کااعلان مگر جب سے آف شورکمپنیوں سے متعلق پانامہ لیکس کے انکشافات سامنے کے بعدوزیراعظم نے اب دیگر علاقوں کارخ کرلیاہے اور بنوں میں حالیہ جلسہ ان کاخیبرپختونخوامیں دوسراعوامی جلسہ تھااس سے قبل وہ ہزارہ ڈویژن کے ضلع مانسہرہ گئے تھے اوروہاں بھی غیرمعمولی منصوبوں کے اعلانات کئے تھے۔اگروزیراعظم نوازشریف پاکستان کی ترقی کی سیاست کررہے ہیں جیساکہ ان کاکہناہے تو خوش آئند بات ہے ۔ایک پائی کرپشن ثابت ہونے پر ایک منٹ میں گھر جانے کاان عزم بھی قابل تعریف ہے۔یہ بات بھی حوصلہ افزاء ہے اگروہ دلیرہیں اور عوامی مینڈیٹ کے تحت حکومت کرتے ہوئے کسی کی گیدڑبھبکیوں سے نہیں ڈرتے ۔انہوں نے 1991ء کوپشاورتااسلام موٹروے تعمیرکی اور گزشتہ ادوارمیں خیبرپختونخوامیں بے شمارسڑکیں بنائیں شک اس میں بھی کوئی نہیں بلکہ شائد یہ کہناغلط نہ ہوکہ شاہراہوں کی تعمیرہی نوازشریف کی اصل وجہ شہرت ہے جبکہ ردان کی اس بات کوبھی نہیں کیاجاسکتا کہ سنہرے خواب دکھانے والے آج عام لوگوں سے ملناتک گوارانہیں کرتے کیونکہ اگرنوازشریف پر تنقیدکی جاسکتی ہے تودوسروں پر تنقید کرنے کاحق وہ بھی رکھتے ہیں۔ اگر وزیر اعظم کہتے ہیں کہ اقتصادی راہداری کے بہت اچھے اثرات مرتب ہوں گے اور2018 تک پاکستان سے لوڈشیڈنگ کاخاتمہ ہوجائے گا تو مان لیتے ہیں اورلوڈشیڈنگ کے خاتمہ کے لئے جہاں اتنے سال انتظارکیاہے وہاں دوسال اورسہی جبکہ انتظارکے بغیرتودوسراکوئی راستہ ہے بھی نہیں۔ہیلی کاپٹر سے تلاش کرتے ہوئے انہیں اگرنیاخیبرپختونخوانظرنہیں آیاتو ان کی یہ بات بھی ماننے والی ہے کیونکہ جس چیزکا زمین پر وجودنہیں ہوتا وہ بھلاہواؤں اور فضاؤں سے کس طرح نظرآسکتی ہے۔ شائدوزیراعظم یہ کہنے میں بھی کسی حدتک حق بجانب ہیں کہ سپریم کورٹ کافیصلہ آنے کے بعد کہ 2013 کے عام انتخابات میں دھاندلی نہیں ہوئی یہ دوسال تک دھاندلی کارونارونے والوں کے منہ پر طمانچہ تھا کیونکہ دھاندلی کے الزامات لگانے والے تحقیقاتی کمیشن کے سامنے دھاندلی ثابت کرنے سے قاصررہے حالانکہ کمیشن ان کے پرزورمطالبے پر بناتھامگریہ منہ اور مسورکی دال کامحاورہ سناکر وزیراعظم کایہ کہناکہ لوگ کس منہ سے ان سے استعفیٰ مانگ رہے ہیں شائد مناسب نہیں کیونکہ وزیراعظم سے استعفے کامطالبہ کرناحزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں اور شہریوں کا جمہوری حق ہوتا ہے۔اگرچہ وزیراعظم کاخیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع کے دورے کرنااورعوامی اجتماعات بڑے بڑے منصوبوں کے اعلانات کرناقابل تعریف ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیراعظم جس علاقے کابھی دورہ کرتے ہیں وہاں ترقی اورعوامی خوشحالی کے منصوبے آتے ہیں مگر وزیراعظم نوازشریف کایہ کہناکہ خیبرپختونخوامیں ان کی حکومت نہیں ہے اس کے باوجودوہ عوامی خدمت کرنے کے لئے آئے ہیں شائد مناسب نہیں کیونکہ یاتو وہ صاف طورپر بتادیں کہ وہ محض پنجاب کاوزیراعظم ہے یاپھراس حقیقت کوسامنے رکھیں کہ فیڈریشن میں وزیراعظم کسی مخصوص صوبے اور علاقے کانہیں بلکہ پورے ملک کاانتظامی سربراہ ہوتے ہیں جبکہ یہاں اٹھتاسوال یہ بھی ہے کہ کیا وزیراعظم خیبر پختونخوا کے دیگراضلاع کا بھی دورہ کریں گے یابس مانسہرہ اور بنوں کے دوروں کوکافی قراردینے پر ہی اکتفاکریں گے جبکہ اس ضمن کہایہ جارہاہے کہ مانسہرہ ان کے دامادکیپٹن صفدراور بنوں ،کوہاٹ،لکی مروت اورڈی آئی خان پر مشتمل جنوبی اضلاع مولانافضل الرحمٰن کاعلاقہ ہے جوان کی حلیف جماعت کے قائد ہیں ۔واضح رہے کہ اگروزیراعظم کے دورہ سوات یاشانگلہ سے بھی بات نہیں بنے گی کیونکہ وہ ان کے مشیراوراہم دست راست امیرمقام کاعلاقہ ہے بات توتب ہوگی جب وزیراعظم دیرلوئر،دیراپراوربونیرجیسے ان اضلاع کادورہ کرکے وہاں کی پسماندگی دورکرنے کے لئے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دیں گے جہاں ان کی جماعت کاکوئی ایم پی اے ہونہ ایم این اے۔تب لگے گاکہ نوازشریف قومی لیڈراور ملک بھر کے وزیراعظم ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں