135

دینی حلقوں اور متاثریں زلزلہ،سیلاب نے جشن چترال کے انعقاد کو چترال کے مفلوک الحال باسیوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف قرار دیا

چترال (شہریار بیگ سے ) چترال کے دینی حلقوں اور متاثریں زلزلہ،سیلاب نے ضلعی انتظامیہ کے زیر اہتمام جشن چترال کے انعقاد کو چترال کے مفلوک الحال باسیوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف قرار دیا ہے ان حلقوں کا کہنا ہے کہ ضلع چترال گزشتہ سال سے مختلف قدرتی آفات سیلاب اور زلزلے کے تباہ کاریوں کا شکار ہے مگر ہماری انتظامیہ متاثریں کو ریلیف دینے کے بجائے جشن چترال کی صورت میں واہیات میں مصروف ہے۔دروش کے متاثریں زلزلہ ایک ماہ سے زائد کا عرصہ اس احتجاج میں گزارا کہ اُنہیں ریلیف نہیں ملی ہے مجبوراً اُنہوں نے آفغانستان ہجرت کرنے کا قدم اُٹھایا۔ریشن کے عوام اپنی مشکلات کا حل نظر نہ آنے پر گزشتہ ایک عرصے سے احتجاج کر رہے ہیں۔بریب اور یارخون لشٹ کے متاثریں کئی ماہ سے امداد سے مایوس ہو کر احتجاج کی راہ اختیار کی مگر چترال کے ضلعی انتظامیہ کو اتنی توفیق نصیب نہ ہوئی کہ وہ متاثریں کی دلجوئی کریں امداد کرنا تو دور کی بات ہے۔ان حلقوں نے شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری ضلعی انتظامیہ چترال جیسے حساس علاقے میں ڈھول دمامے اور سرنائی کے کلچر کو فروع دے رہا ہے۔چترال کے علماء کرام نے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں