91

صوبائی پبلک سروس کمیشن اور دوسرے مقابلوں کے امتحان میں چترال کے نوجوانوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ

چترال(نمائندہ ڈیلی چترال)چترال کے نوجوان قابلیت اور تعلیمی میعار میں صوبے کے دوسرے اضلاع کے نوجوانوں سے کم نہیں ہیں۔ چترال تعلیم کے میدان میں صوبے میں تیسرے نمبر پر آتا ہے۔لیکن پبلک سروس کمیشن اور دوسرے مقابلے کے امتحان میں چترالی نوجوان بہترین نمبروں سے پاس ہونے کے باوجود تعیناتی کے مرحلے میں اُن کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔جس سے چترال کے نوجوانوں میں احساس محرومی بڑھ رہی ہے۔ارباب اختیار کو مستقبل میں اس احساس محرومی کو ختم کرنا ہوگا۔مسلم لیگ(ن) کے پارٹی ترجمان نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ نے کہا کہ حالیہ پبلک پراسیکیوٹر ،سول ججز اور ایڈیشنل سیشن ججز کے امتحان میں چترالی نوجوانوں کو نظر انداز کیا گیا۔ان تعیناتیوں میں چترال کو چھوڑ کر ہر ضلع کے امیدواروں کو تعینات کیا گیا۔اس طرح دوسرے محکموں میں بھی چترالی نوجوانوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔اُنہوں نے چترال سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندوں سے مطالبہ کیا کہ اس سلسلے میں اسمبلی میں آواز اُٹھائی جائے۔

سپاس تعزیت
ہم ان تمام دوستوں ،رشتہ داروں،بہنوں،بھائیوں اور احباب کا انتہائی مشکور ہوں ،جنہوں نے میرے پیارے بیٹے خرم نواز السدیس کے اچانک انتقال پر خود تشریف لاکر ،ٹیلیفون ومسیجنگ کے ذریعے ہمارے غم میں برابر شریک رہے۔اللہ تعالیٰ آپ سب کو آجر عظیم عطافرمائے۔فرداًفرداً آپ تمام کا شکریہ اداکرنا ممکن نہیں۔لہذا میڈیا کے ذریعے آپ کا شکریہ اداکرتے ہیں۔
سوگواران: رحمت نواز سروری،بیگم رحمت نواز سروری واہل خانہ آف کوشٹ حال دنین گولوغ چترال۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں