52

چترال جیسے دورافتادہ علاقے میں بچیوں کو بھی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی طرف لانے کی آشد ضرورت ہے۔ڈی جی پروفیسر شکیل احمد

چترال (نمائندہ ڈیلی چترال ) ڈائرکٹر جنرل کامرس ایجوکیشن اینڈ منیجمنٹ سائنس خیبر پختونخوا پروفیسر شکیل احمدنے کہا ہے کہ موجودہ دور میں ہمیں اپنے نئی نسل کو مارکیٹ کی ڈیمانڈ کے مطابق تعلیم مہیا کرنی چاہئے اور اس مطلوبہ تعلیم کی بنیا د انفارمیشن ٹیکنالوجی ہے جبکہ اس حقیقت کے پیش نظر موجودہ صوبائی حکومت نے فنی تعلیم کو ترجیحات میں سرفہرست رکھ دیا ہے اور چترال جیسے دورافتادہ علاقے میں بچیوں کو بھی اس فیلڈ کی طرف لانے کی اشد ضرورت ہے۔ جمعرات کے روز گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج آف منیجمنٹ سائنس چترا ل میں نئی آئی۔ ٹی۔ لیبارٹری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ دنیا کو گلوبل ویلج کی حیثیت دینے والی چیز انفارمیشن ٹیکنالوجی ہے اور اب روایتی تعلیم کا دور گزرگیا ہے ۔ انہوں نے اس موقع پر کالج میں ایم بی اے کی کلاس شروع کرنے ، کالج کی آئی ۔ٹی ۔لیبارٹری کے لئے مزید ساٹھ عدد کمپیوٹر سیٹ فراہم کرنے ، امتحانی ہال کی تعمیر نو کرنے اور ٹیچنگ اسٹاف کے لئے ایک اور بیچلر ہاسٹل کی تعمیر کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے آئی ۔ٹی لیبارٹری میں بجلی کی مستقل فراہمی کے لئے 9میلین روپے کی مالیت کا سولر سسٹم کی فراہمی کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کالج میں طالبات کے نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ آج اگر اس ادارے میں پچاس طالبات زیر تعلیم ہوتی تو وہ ان کے لئے ابھی اور اسی وقت الگ کالج کے قیام کا اعلان کرتا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چترال سے صوبائی اسمبلی کے رکن سلیم خان نے صوبائی حکومت کو سخت ہدف تنقید بناتے ہوئے کہاکہ تعلیمی انقلاب اور تعلیمی ایمرجنسی کے نعرے تو لگ رہے ہیں لیکن عوام کو فیلڈ میں کچھ نظر نہیں آرہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم اور چیف منسٹر نے گزشتہ سال چترال کا دورہ جو اعلانات کئے تھے، ان پر ابھی تک عملدرامد نہیں ہوا جس کے نتیجے میں چترال کے طول وعرض میں سڑکیں کھنڈرات بن گئے ہیں اور ابپاشی اور ابنوشی کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے ۔ سلیم خان نے کامرس کالج کے طالب علموں کے لئے فیس معافی کو یقینی بنانے کے لئے گورنر سے ملاقات کرنے کی یقین دہانی کرائی کیونکہ گزشتہ سال کے سیلاب سے متاثر کامرس کے طالب علموں کو فیس کی معافی نہیں دی گئی تھی۔ اس سے قبل کالج کے پرنسپل پروفیسر صاحب الدین نے کالج میں تعلیمی اور تعمیراتی سرگرمیوں کے بارے میں رپورٹ پیش کی اور ڈی۔ جی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہاکہ انہوں نے کبھی بھی فنڈز میں کمی کا احساس ہونے نہیں دیا۔ ہاشو فاونڈیشن کے ریجنل پروگرام منیجر سلطان محمو اور خطیب شاہی مسجد چترال مولانا خلیق الزمان نے بھی اس موقع پرِ خطاب کیا۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں